مغربی بنگال میں اقتدار سنبھالتے ہی نئی بی جے پی حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کے خلاف ایک بڑی اور سخت مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، روہنگیا سمیت تقریباً 386 مشتبہ غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکینِ وطن کو حراست میں لے کر ریاست کے مختلف اضلاع میں قائم حراستی مراکز (Detention Centres) میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان میں سب سے بڑی تعداد بسیر ہاٹ سے حراست میں لیے گئے افراد کی ہے، جہاں تقریباً 335 لوگوں کو حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔
11 اضلاع سے گرفتاریاں؛ بسیر ہاٹ کے مراکز میں خواتین اور بچے بھی شامل
حکام کے مطابق، ریاست کے کل 11 اضلاع سے ان مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ بسیر ہاٹ میں موجود 335 افراد کو 'ٹینٹولیا پتھر ساتھی'، 'چار گھاٹ فلڈ سینٹر' اور 'میڈیا سبھاش نگر فلڈ سینٹر' میں رکھا گیا ہے۔ ان میں 148مرد:خواتین 99،بچے 88۔
بسیر ہاٹ کے علاوہ باروئی پور، سندر بن، جنوبی دیناج پور، بونگاؤں، باراسات، کوچ بہار، مرشد آباد، جنگی پور، کرشنا نگر اور مالدہ کے حراستی مراکز میں بھی چھوٹی تعداد میں غیر قانونی تارکینِ وطن کو رکھا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مرشد آباد کے بھگوان گولا میں واقع سوپن نگر مارکیٹ کمپلیکس میں 19، مالدہ کے کرم تیرتھ مرکز میں 9 اور جنوبی دیناج پور کے رام پور کرم تیرتھ مرکز میں بھی کئی افراد زیرِ حراست ہیں۔
سرحدی باڑ کے لیے بی ایس ایف کو 142.79 ایکڑ زمین تفویض:
دراندازی پر سخت ایکشن لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کی حکومت نے بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل تقریباً 142.79 ایکڑ زمین بارڈر سیکیورٹی فورس (BSF) کے حوالے کر دی ہے۔ اس زمین پر بی ایس ایف نئی چوکیاں (Border Outposts) تعمیر کرے گی اور خاردار تاروں کی باڑ لگا کر حساس سرحدی علاقوں میں نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط اور فول پروف بنایا جائے گا۔
حکومت نے اگلے 45 دنوں کے اندر مجموعی طور پر 600 ایکڑ زمین بی ایس ایف کو سونپنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ریاست میں حکومت کی تبدیلی اور اس سخت کاروائی کے خوف سے کئی درانداز خود ہی واپس بنگلہ دیش لوٹتے ہوئے بھی دیکھے جا رہے ہیں۔