Saturday, January 31, 2026 | 12, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • مسلمانوں کی بڑھتی آبادی پرمرکزی وزیر گری راج سنگھ نے کیا کہا؟

مسلمانوں کی بڑھتی آبادی پرمرکزی وزیر گری راج سنگھ نے کیا کہا؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 31, 2026 IST

مسلمانوں کی بڑھتی آبادی پرمرکزی وزیر  گری راج سنگھ نے کیا کہا؟
پیو ریسرچ سینٹر کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اسلام دنیا کا سب سے تیزی سے بڑھنے والا مذہب بن چکا ہے۔جس پر مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے اپنا بڑا ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ عالمی سطح پر اسلام مذہب کے ماننے والوں کی آبادی بڑھ رہی ہے اور اس موضوع پر بہت سے لوگ گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن انہیں اس سے زیادہ بہار کے بے گوسرائے ضلع میں مسلم کمیونٹی کی تیزی سے بڑھتی آبادی کی فکر ہے، جو جانچ کا موضوع ہے۔ 
 
مرکزی وزیر نے کہا کہ میں نے انتخابات کے دوران بھی بنگلہ دیشی گھس پیٹھ کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ میں نے معاشرے سے اپیل کرتے ہوئے کہا  تھا کہ جو لوگ 1970-80 کی دہائی کے درمیان بے گوسرائے ضلع میں آئے ہیں، ان کی شناخت کی جانی چاہیے اور یہ بتایا جائے کہ وہ کن علاقوں میں آباد ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گھس پیٹھ کا جال اتنا گہرا ہو گیا ہے کہ مقامی سطح پر معلومات شیئر نہیں کی جا رہی ہیں، جس سے بنگلہ دیشی گھس پیٹھ کرنے والوں کی شناخت مشکل ہو رہی ہے۔
 
گری راج سنگھ نے کہا کہ بنگلہ دیشی گھس پیٹھ کرنے والوں اور غیر ملکی مسلمانوں کی شناخت کر کے انہیں باہر نکالنے میں معاشرے کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پورنیہ سمیت سرحدی علاقوں میں دیسی اور غیر ملکی مسلمانوں کے درمیان تناؤ کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، جس پر سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں سوال ہے کہ بنگلہ دیش سے آئے صرف گھس پیٹھ کرنے والے مسلمانوں کو ہی کیوں؟ ہندو؟ عیسائی یا دیگر مذاہب کے بنگلہ دیشی گھس پیٹھ کرنے والوں کو کیوں باہر نہیں نکالا جانا چاہیے؟
 
ہمیں معلوم ہے کہ بنگلہ دیشی اور گھس پیٹھ کرنے والے، غیر ملکی بتا کر کئی مسلمانوں کو ملک بھر میں مارا پیٹا جا رہاہے۔ لیڈروں کے اس طرح کے بیانات سے ملک کے افراتفری پھیلانے والے عناصر کو ایک کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے لیے حوصلہ مل جاتا ہے۔ ہم نے اڈیشہ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ، بہار اور اتر پردیش سمیت کئی ریاستوں میں دیکھا ہے کہ مبینہ ہندوتوادی تنظیموں کے لوگوں کو یہ کھلا لائسنس مل چکا ہے کہ وہ کسی بھی غریب پھری والے کو روکیں اور مسلمان ہونے کی وجہ سے اسے بنگلہ دیشی بتا کر پیٹ دیں۔