ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 7 فروری کو پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان میچ کے ساتھ ہوگا۔اس فارمیٹ میں اکثر بلے بازوں کی دھماکہ خیز بیٹنگ سننے کو ملتی ہے۔ اس لیے ٹیمیں عام طور پر بڑا اسکور کھڑا کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ اس دوران کئی بار گیند باز بھی شاندار پرفارمنس دے کر میچ کو اکیلے دم پر اپنی ٹیم کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ آئیے ٹی-20 ورلڈ کپ کی تاریخ میں بہترین بولنگ پرفارمنس کرنے والے گیند بازوں پر نظر ڈالتے ہیں۔
اجنتا مینڈس :
ٹی-20 ورلڈ کپ میں بہترین بولنگ پرفارمنس کا ریکارڈ سری لنکا کے سابق اسپنر اجنتا مینڈس کے نام درج ہے۔ انہوں نے 2012 کے ٹی-20 ورلڈ کپ میں زمبابوے کے خلاف اپنے 4 اوورز میں 8 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اس دوران انہوں نے 2 میڈن اوورز بھی کیے تھے۔ مینڈس ورلڈ کپ کے کسی ایک میچ میں 6 وکٹیں لینے والے واحد گیند باز ہیں۔ اس میچ میں زمبابوے کی ٹیم صرف 100 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔
رنگنا ہیراتھ :
رنگنا ہیراتھ ٹی-20 ورلڈ کپ میں 5 وکٹیں لینے والے سری لنکا کے دو اسپنرز میں شامل ہیں۔ انہوں نے 2014 کے گروپ-1 میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 3.3 اوورز میں 3 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ چٹاگانگ میں کھیلے گئے میچ میں سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 119 رنز کا اسکور بنایا تھا۔ جواب میں ہیراتھ کی شاندار بولنگ کے سامنے کیوی ٹیم 15.3 اوورز میں 60 رنز پر سمٹ گئی تھی۔
عمر گل :
پاکستان کے سابق کھلاڑی عمر گل نے 2009 میں نیوزی لینڈ کے خلاف اوول میں کھیلے گئے ٹی-20 ورلڈ کپ میچ میں اپنی بہترین پرفارمنس دی تھی۔ انہوں نے اپنے 3 اوورز میں 6 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ انہوں نے سکاٹ سٹائرس، پیٹر میک گلاشن، نیتھن میک کولم، جیمز فرینکلن اور کائل ملز کی وکٹیں حاصل کی تھیں۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم 99 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی اور پاکستان نے 6 وکٹوں سے فتح حاصل کی تھی۔
فضل حق فاروقی :
افغانستان کے تیز گیند باز فضل حق فاروقی اس فہرست میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ انہوں نے ٹی-20 ورلڈ کپ 2024 میں یوگنڈا کے خلاف 4 اوورز میں 9 رنز خرچ کر کے 5 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ میچ میں افغانستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 183/5 کا اسکور بنایا تھا۔ جواب میں یوگنڈا کی ٹیم 58 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔
فاروقی نے رونک پٹیل، روجر مکاسا، ریاضت علی شاہ، روبنسن اوبویا اور برائن مسابا کو اپنا شکار بنایا تھا۔
یہ پرفارمنسز ٹی-20 ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے بہترین بولنگ کے اعداد و شمار ہیں، جہاں اسپنرز کا غلبہ زیادہ نظر آتا ہے، لیکن تیز گیند باز بھی پیچھے نہیں ہیں۔