مختار انصاری کے بیٹے اور موجودہ ایم ایل اے عباس انصاری کی مشکلات ایک بار پھر بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ غازی پور پولیس نے دیر رات محمد آباد میں واقع ان کی آبائی رہائش گاہ 'پھاٹک' پر پہنچ کر انہیں ایک باضابطہ قانونی نوٹس تھمایا ہے۔ پولیس کی یہ اچانک کاروائی ایک خفیہ اطلاع کے بعد عمل میں آئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ عباس انصاری گزشتہ کئی دنوں سے عدالت کے کسی نئے حکم کے بغیر یہاں غیر قانونی طور پر قیام پذیر ہیں۔ پوروانچل کی سیاست میں بڑا اثر و رسوخ رکھنے والے انصاری خاندان کے اس گڑھ (پاور سینٹر) پر آدھی رات کو ہونے والی اس پولیس کاروائی سے پورے علاقے میں کھلبلی مچ گئی ۔
کیا ہے پورا معاملہ اور پولیس کیوں پہنچی؟
تفصیلات کے مطابق، چترکوٹ میں درج گینگسٹر ایکٹ کے ایک معاملے میں سپریم کورٹ نے عباس انصاری کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف دیتے ہوئے صرف تین دنوں کے لیے غازی پور میں رکنے کی خصوصی اجازت دی تھی۔ عباس انصاری کے وکلاء کی جانب سے پولیس کو فراہم کردہ شیڈول کے مطابق انہیں 13 مئی کو غازی پور آنا تھا۔
قانون کے مطابق عدالت کی طرف سے طے کردہ یہ وقت گزرے کئی دن ہو چکے ہیں۔ اس دوران پولیس کے انٹیلی جنس ونگ (خفیہ نظام) کو یہ پختہ معلومات ملیں کہ عباس انصاری کسٹڈی پیرول اور عدالتی احکامات کی مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی مسلسل اپنے آبائی گھر 'پھاٹک' پر ہی ہیںاور وہیں رات گزار رہے ہیں۔
رات کے اندھیرے میں نوٹس کی تعمیل، عدالتی حکم نامہ طلب:
اس خفیہ اطلاع کی بنیاد پر سرکل آفیسر (CO) محمد آباد بھاری پولیس فورس کے ہمراہ دیر رات تقریباً 11 سے 12 بجے کے درمیان اچانک 'پھاٹک' پہنچے۔ پولیس ٹیم نے وہاں موجود ایم ایل اے عباس انصاری کو براہِ راست نوٹس تھما دیا۔
پولیس کے اس نوٹس میں انتہائی سخت موقف اختیار کیا گیا ہے۔ سرکل آفیسر نے نوٹس کے ذریعے عباس انصاری سے صاف طور پر پوچھا ہے کہ،آپ اس وقت کس قانونی یا عدالتی حکم کے تحت اس رہائش گاہ پر قیام پذیر ہیں؟ اگر آپ کے پاس غازی پور میں رکنے کا کوئی جائز اور نیا عدالتی حکم موجود ہے تو اسے فوری طور پر پولیس کے سامنے پیش کریں، ورنہ آپ کو فوراً غازی پور چھوڑنا ہوگا۔
جواب کے لیے 24 گھنٹے کا وقت؛ ساکھ خطرے میں:
دلچسپ بات یہ رہی کہ جس وقت پولیس حکام موقع پر نوٹس کی تعمیل کروا رہے تھے، اس وقت عباس انصاری یا ان کے خاندان کی طرف سے کوئی بھی نیا یا جائز عدالتی حکم نامہ پیش نہیں کیا جا سکا۔ اس کے بعد پولیس نے انہیں تحریری جواب دینے اور متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کے لیے محض 24 گھنٹے کا وقت دیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، ایک عوامی نمائندے اور عدالتی تحویل کے تحت چل رہے شخص کے لیے یہ صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ اگر عباس انصاری مقررہ وقت کے اندر کوئی جائز عدالتی حکم پیش کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو اسے توہینِ عدالت اور عدالتی احکامات کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ اس کا براہِ راست اثر مستقبل میں انہیں ملنے والی کسی بھی قسم کی قانونی راحت یا ضمانت کی درخواستوں پر پڑ سکتا ہے۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ انصاری خاندان اور ان کے وکلاء اس کڑے نوٹس کا کیا قانونی جواب داخل کرتے ہیں۔