راجیہ سبھا ایم پی اور سابق کرکٹر ہربھجن سنگھ پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے سیکورٹی واپس لیے جانے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ انہوں نے عدالت میں عرضی دائر کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ ان کی سیکورٹی کیوں واپس لی گئی اور اسے بحال کیا جائے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس پر اگلی سماعت 12 مئی کو ہوگی۔ حال ہی میں ہربھجن سنگھ سمیت عام آدمی پارٹی کے سات راجیہ سبھا ایم پیز نے عام آدمی پارٹی چھوڑ دی اور بی جے پی میں شامل ہو گئے۔
پنجاب حکومت نے واپس لی تھی سیکورٹی:
پنجاب حکومت نے راجیہ سبھا ایم پی ہربھجن سنگھ کی سیکورٹی واپس لے لی تھی، جس کے چند ہی گھنٹوں بعد مرکز کی حکومت نے مداخلت کی۔ ہربھجن سنگھ کو سی آر پی ایف کی طرف سے 'وائی کیٹیگری' کی سیکورٹی دی گئی ہے۔ ان کے علاوہ راجیہ سبھا ایم پی اشوک مِتل کو بھی وائی کیٹیگری کی سیکورٹی فراہم کی گئی ہے۔
کن کن ایم پیز نے چھوڑی اے اے پی؟
عام آدمی پارٹی کے راگھو چڈھا، سواتی مالیوال، سندیپ پاتھک، وک رم جیت سنگھ ساہنی، اشوک مِتل، ہربھجن سنگھ اور راجندر گپتا نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی اطلاع خود راگھو چڈھا نے دی تھی۔
عام آدمی پارٹی کے کارکنوں نے ہربھجن سنگھ کے گھر کے باہر احتجاج بھی کیا۔ اس دوران پتلے جلائے گئے اور نعرے بازی کی گئی۔ سواتی مالیوال کو چھوڑ کر باقی تمام چھ سانسدوں کو عام آدمی پارٹی نے پنجاب سے راجیہ سبھا بھیجا تھا۔
عام آدمی پارٹی چھوڑنے والے تمام ایم پیز کے بی جے پی میں ضم ہونے کو راجیہ سبھا کے صدر سے منظوری مل چکی ہے۔ اب راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے سانسدوں کی تعداد 10 سے گھٹ کر سات رہ گئی ہے۔
عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے بی جے پی جوائن کرنے والے راگھو چڈھا اور دیگر رکن پارلیمان کے خلاف راجیہ سبھا کے صدر سے اپیل کی کہ انہیں نااہل قرار دیا جائے۔ فی الحال ان ایم پیز کے پارٹی چھوڑنے سے پنجاب میں سیاسی ہلچلیں تیز ہیں۔