• News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • جرمنی کے چانسلر فریڈرک مئرز کا بھارت دورہ کیوں ہے اہم،کن مسائل پر ہوگی بات ؟

جرمنی کے چانسلر فریڈرک مئرز کا بھارت دورہ کیوں ہے اہم،کن مسائل پر ہوگی بات ؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 11, 2026 IST

جرمنی کے چانسلر فریڈرک مئرز کا بھارت  دورہ کیوں ہے اہم،کن مسائل پر ہوگی بات ؟
جرمنی کے چانسلر فریڈرک مئرز کل یعنی 12 جنوری کو بھارت کے دورے پر آ رہے ہیں۔ وہ احمد آباد میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کریں گے اور بنگلور میں کاروباری برادری کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ مئرز کے وفد میں 25 جرمنی کی بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) بھی شامل ہیں۔ عالمی انتشار کے بیچ ہونے والے اس دورے کو اسٹریٹجک اور تجارتی لحاظ سے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ آئیے اس دورے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔
 
مئرز کا دورہ کیسا رہے گا؟
 
مئرز 12 جنوری کی صبح تقریباً 9:30 بجے وزیر اعظم مودی کے ساتھ سابرمتی آشرم جائیں گے۔ صبح 10 بجے وہ سابرمتی دریا کے کنارے منعقد ہونے والے بین الاقوامی پتنگ میلے میں شرکت کریں گے۔ صبح 11:15 بجے دونوں رہنماﺅں کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوگی۔ اگلے دن یعنی 13 جنوری کو وہ بنگلور جائیں گے، جہاں وہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اور جرمن کمپنی بوش کے کیمپس کا دورہ کریں گے۔ اس کے علاوہ کچھ مزید کاروباری ملاقاتیں بھی طے ہیں۔
 
دورہ کتنا اہم ہے؟
 
یہ مئرز کی پہلی سرکاری بھارت آمد ہے۔ عام طور پر جرمنی کے چانسلر اپنے پہلے ایشیائی ملک کے دورے پر چین یا جاپان جاتے ہیں۔ مئرز برسوں سے چلی آ رہی اس روایت کو توڑتے ہوئے بھارت آ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ نیٹو اور یورپی یونین کے باہر یہ مئرز کی پہلی سرکاری سفر ہے۔ یہ تمام پہلو اس دورے کی اہمیت کو بڑھاتے ہیں اور بھارت-جرمنی کے درمیان گہرے ہوتے تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
 
دورے کا ایجنڈا کیا ہے؟
 
دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تعلیم، ہنر مندی کی ترقی، دفاع، سائنس، جدت، سبز ترقی اور عوامی رابطوں پر بات چیت ہوگی۔ جرمنی کے سفیر فلپ ایکیرمین نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ تجارت سب سے بڑا مسئلہ ہوگا۔ گزشتہ سال ہم نے 50 ارب ڈالر کا باہمی تجارت کیا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جرمنی بھارت سے کتنی مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ بھارت میں جرمنی کی 2000 سے زائد کمپنیاں موجود ہیں۔ اسی طرح 750 بھارتی کمپنیوں نے جرمنی میں سرمایہ کاری کی ہے۔
 
کن مسائل پر بات چیت ہوگی؟
 
سفیر ایکیرمین کے مطابق بات چیت کا دوسرا اہم مسئلہ ہجرت (مائیگریشن) ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چند سالوں میں جرمنی میں بھارتیوں کی ہجرت ایک کامیاب کہانی بن گئی ہے۔ جرمنی میں بھارتی مزدور جرمن ساتھیوں کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ کماتے ہیں۔ایکیرمین نے اشارہ دیا کہ یوکرین جنگ، وینزویلا کی صورتحال سمیت کئی دیگر عالمی مسائل بھی بات چیت کا حصہ ہوں گے۔ بھارت-جرمنی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو حال ہی میں 25 سال مکمل ہوئے ہیں، اس کی بھی جائزہ لیا جائے گا۔
 
احمد آباد اور بنگلور کا انتخاب کیوں کیا گیا؟
 
گجرات کا انتخاب ثقافتی ربط اور سیاسی ہم آہنگی کو ظاہر کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ ایکیرمین نے کہا کہ یہ وزیر اعظم مودی کا بہت اچھا قدم ہے۔ انہوں نے چانسلر مئرز کو اپنے آبائی صوبے میں بلایا ہے۔ ہم اسے دوستی کا اشارہ اور چانسلر کے لیے گرمجوشی سے خوش آمدید سمجھتے ہیں۔جبکہ بنگلور کے انتخاب کے پیچھے تجارتی اور تکنیکی بات چیت کو وجہ بتایا جا رہا ہے، کیونکہ مئرز کے ساتھ ایک بڑا تجارتی وفد بھی ہے۔
 
بھارت-جرمنی کے تعلقات کیسے ہیں؟
 
دوسرے عالمی جنگ کے بعد بھارت جرمنی کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والے پہلے ممالک میں سے ایک تھا۔ جرمنی بھارت کا اہم تجارتی شراکت دار ہے اور ٹاپ 10 تجارتی ممالک میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ جرمنی بھارت کا ساتواں سب سے بڑا غیر ملکی براہ راست سرمایہ کار ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اہم دفاعی تعلقات بھی ہیں۔ 2008 میں دونوں ملکوں کی بحریہ نے پہلی بار مشترکہ مشق کی تھی۔ بھارت جرمنی سے آبدوزیں خریدنے کے لیے بھی بات چیت کر رہا ہے۔
 
یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا بلکہ عالمی سطح پر بھارت اور جرمنی کی بڑھتی ہوئی شراکت داری کو بھی اجاگر کرے گا۔