سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر معید خان کو ایودھیا میں ایک نابالغ دلت لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کیس میں 28 جنوری کو خصوصی پوکسو عدالت نے بری کر دیا ہے۔ تاہم، معید ابھی جیل سے باہر نہیں آئے ہیں۔ انہیں جیل میں ہی رکھا گیا ہے۔
بتا دیں کہ ایودھیا کے بھدرسا میں ایک نابالغ دلت لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ اس واقعے کے بعد 29 جولائی 2024 کو پورہ قلندر پولیس اسٹیشن میں ایک کیس درج کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر معید خان اور ان کے نوکر راجو خان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ معید خان پر POCSO ایکٹ اور گینگسٹر ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
معید خان کو گینگ ریپ کے الزام میں تو باعزت بری کر دیا گیا ہے، لیکن ان پر ابھی بھی کئی دیگر سنگین دفعات لگی ہوئی ہیں (جیسے کہ گینگسٹر ایکٹ کا مقدمہ)۔ ان دفعات میں رہائی باقی ہے، اس لیے معید گینگ ریپ کیس میں باعزت بری ہونے کے باوجود جیل میں ہی رہیں گے۔
دریں اثنا، معید خان کے نوکر راجو خان کو اس معاملے میں قصوروار پایا گیا ہے اور اسے 20 سال قید بامشقت اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ خصوصی POCSO عدالت میں سماعت کے دوران ڈی این اے رپورٹ نے اہم کردار ادا کیا۔ معید خان کی ڈی این اے رپورٹ منفی آئی جبکہ راجو خان کی رپورٹ مثبت آئی۔ اس سائنسی تحقیقات کی بنیاد پر نوکر راجو خان کو قصوروار پایا گیا اور سزا سنائی گئی۔
قابل ذکر ہے کہ ایودھیا گینگ ریپ کیس کے سامنے آتے ہی سیاسی سرگرمیاں بڑھ گئیں۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اسمبلی میں سماج وادی پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے معید خان پر گینگ ریپ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ اسمبلی میں یوگی کے بیان کے بعد انتظامیہ نے معید خان کی بیکری اور شاپنگ کمپلیکس کو بلڈوز کردیا۔
اب جب انہیں اس کیس میں با عزت بری کر دیا گیا ہے تو یوگی حکومت کی اس کاروائی کی سخت تنقید کی جا رہی ہے ،اور سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا حکومت معید خان کی بیکری اور شاپنگ کمپلیکس کو از سرنو تعمیر کرے گی؟