سردیوں کا موسم جہاں ایک طرف خوشگوار ٹھنڈ، تہواروں اور خاندانی تقریبات کا پیغام لاتا ہے، وہیں دوسری جانب وائرل انفیکشنز اور نمونیا جیسے سنگین امراض کے خطرات بھی بڑھا دیتا ہے۔ ٹھنڈی ہوا، بدلتا ہوا موسم، فضائی آلودگی اور لوگوں کا زیادہ تر بند جگہوں میں جمع ہونا ان بیماریوں کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔ ایسے میں عوام میں آگاہی پیدا کرنا بے حد ضروری ہو جاتا ہے تاکہ بروقت احتیاط اور علاج سے سنگین پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
سردیوں میں وائرل انفیکشن کتنا خطرناک
منصف ٹی کے پروگرام“ہیلتھ اور ہم” میں اپولو اسپتال حیدرگوڑہ، حیدرآباد کے کنسلٹنٹ پلمونولوجسٹ ڈاکٹر ایس ملیکارجن راؤ نے سردیوں میں وائرل انفیکشن اور نمونیا کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر ایس ملیکارجن کے مطابق سرد موسم میں وائرس تیزی سے بڑھتے ہیں، خاص طور پر انفلوئنزا وائرس، جو نہ صرف جلد پھیلتا ہے بلکہ بعض اوقات نمونیا جیسی خطرناک صورت اختیار کر لیتا ہے۔
انفلوئنزا اے وائرس کیسے پھیلاتا ہے
ڈاکٹر راؤ کے مطابق انفلوئنزا اے وائرس، خاص طور پر H3N2 اسٹرین، اس وقت دنیا کے کئی حصوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہ وائرس کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے افراد، بزرگوں، بچوں، ذیابیطس، دل، پھیپھڑوں یا گردوں کے مریضوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے مریضوں میں نمونیا، آکسیجن لیول کم ہونا اور حتیٰ کہ جان کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
وائرل انفیکشن کی عام علامات
وائرل انفیکشن کی عام علامات میں بخار، کھانسی، زکام، جسم میں درد، سر درد، کمزوری اور بعض اوقات سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ اگر بخار تین دن سے زیادہ برقرار رہے، سانس میں دقت ہو، آکسیجن لیول کم ہونے لگے یا مریض بے ہوشی کی کیفیت میں چلا جائے تو فوری طور پر اسپتال سے رجوع کرنا نہایت ضروری ہے۔ علامات کو نظر انداز کرنا یا خود سے دوائیں لینا بیماری کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔ڈاکٹر راؤ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر وائرل انفیکشن نمونیا میں تبدیل نہیں ہوتا، لیکن کچھ مخصوص وائرس، خصوصاً انفلوئنزا اے، اس خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ اسی لیے بروقت تشخیص اور مناسب علاج بے حد اہم ہے۔
سالانہ فلو ویکسین کی بات
احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ڈاکٹر راؤ نے بتایا کہ سالانہ فلو ویکسین بزرگ افراد، دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں اور ہیلتھ کیئر ورکرز کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔ ویکسین انفیکشن کے خطرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتی، لیکن بیماری کی شدت، اسپتال میں داخلے اور اموات کے امکانات کو نمایاں حد تک کم کر دیتی ہے۔
سردیوں میں کیسے رہیں صحت مند
سردیوں میں صحت مند رہنے کے لیے متوازن غذا، تازہ پھل اور سبزیاں، مناسب پانی کا استعمال، ورزش، یوگا اور مراقبہ کو معمول بنانا ضروری ہے۔ ٹھنڈی ہوا میں صبح سویرے واک سے گریز، گرم کپڑوں کا استعمال، ہجوم والی جگہوں میں ماسک پہننا اور ہاتھوں کی صفائی جیسے اقدامات وائرل انفیکشن سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
بیماری کو معمولی نہ سمجھیں
آخر میں ماہرین کا یہی کہنا ہے کہ سردیوں میں وائرل انفیکشن اور نمونیا کو معمولی بیماری سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔ تھوڑی سی احتیاط، بروقت طبی مشورہ اور صحت مند طرزِ زندگی نہ صرف ہمیں بلکہ ہمارے خاندان اور معاشرے کو بھی محفوظ رکھ سکتی ہے۔ صحت مند رہنا صرف ذاتی ذمہ داری نہیں بلکہ اجتماعی فلاح کا اہم تقاضا بھی ہے۔