Friday, September 11, 2026 | 27 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • بلدی انتخابات سے پہلے جگن ریڈی کو بڑا جھٹکا،وائی ایس آر سی پی کے اہم رہنما کی ٹی ڈی پی میں شمولیت

بلدی انتخابات سے پہلے جگن ریڈی کو بڑا جھٹکا،وائی ایس آر سی پی کے اہم رہنما کی ٹی ڈی پی میں شمولیت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 09, 2026 IST

بلدی انتخابات سے پہلے جگن ریڈی کو بڑا جھٹکا،وائی ایس آر سی پی کے اہم رہنما کی ٹی ڈی پی میں شمولیت
وزیانگرام ضلع پریشد کے چیئرمین اور وائی ایس آر سی پی کے سابق ضلع صدر ایم سرینواس راؤ، جو چنا سرینو کے نام سے بھی مشہور ہیں، ٹی ڈی پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ ان کی بیٹی سیری سہسرا بھی ان کے ساتھ پارٹی میں شامل ہوئی ہیں۔ دونوں نے منگل کی رات امراوتی میں چیف منسٹر چندرابابو نائیڈو کی موجودگی میں ٹی ڈی پی کی رکنیت حاصل کی۔
 
سرینواس راؤ کو وائی ایس آر سی پی کے اہم تنظیمی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا تھا اور ان کے پارٹی صدر وائی ایس جگن موہن ریڈی کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں۔ وہ وائی ایس آر سی پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر بی ستیہ نارائن کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں۔
 
سرینواس راؤ نے صرف وائی ایس آر سی پی کے ضلع صدر کا عہدہ نہیں چھوڑا بلکہ اسمبلی حلقے کے پارٹی انچارج/کوآرڈینیٹر کا عہدہ بھی چھوڑ دیا اور استعفیٰ وائی ایس جگن موہن ریڈی کو بھیجا۔ انہوں نے استعفے میں ذاتی وجوہات بتائی تھیں۔سرینواس راؤ نے ٹی ڈی پی میں شامل ہونے کے بعد کہا کہ چندرابابو نائیڈو کی قیادت میں آندھرا پردیش میں تیز رفتار ترقی اور فلاحی اقدامات نے انہیں ٹی ڈی پی میں شامل ہونے کے لیے متاثر کیا۔
 
سرینواس راؤ نے 2015 میں وائی ایس آر سی پی کی فعال سیاست میں قدم رکھا تھا۔ اس کے بعد وہ پارٹی کے وزیانگرام ضلع صدر اور ضلع پریشد کے چیئرمین بنے۔ ایسے میں ان کی ٹی ڈی پی میں شمولیت کو پارٹی کے لیے اہم سیاسی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا ان کے ساتھ ان کا ضلعی سیاسی نیٹ ورک اور حامی بھی ٹی ڈی پی میں شامل ہوں گے۔
 
بلدیاتی انتخابات سے قبل یہ تبدیلی ٹی ڈی پی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ سرینواس راؤ وزیانگرام میں وائی ایس آر سی پی کی نچلی سطح کی تنظیم اور سیاسی نیٹ ورک سے واقف ہیں، جس کا فائدہ ٹی ڈی پی کو مل سکتا ہے۔
 
دوسری جانب وائی ایس آر سی پی مقامی انتخابات کو اپنے کارکنوں اور پارٹی تنظیم کی طاقت جانچنے کا موقع سمجھ رہی ہے۔ 2024 کے اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی اپنے کارکنوں کو دوبارہ متحد اور تنظیم کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
 
 ذرائع کے مطابق پارٹی سربراہ جگن موہن ریڈی اپنے قریبی ساتھیوں، ایم ایل اے، ایم پی اور دیگر سینئر رہنماؤں کو مقامی انتخابات میں امیدوار بنانے کی تیاری کر رہے ہیں، تاکہ پارٹی کی تنظیم زمینی سطح پر مضبوط رہے اور ٹی ڈی پی کی قیادت والے این ڈی اے اتحاد کا مقابلہ کیا جا سکے۔
 
منگل گیری میں ٹی ڈی پی کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹی ڈی پی کے ترجمان اور ایم ایل اے جولاکانتی برہمانند ریڈی نے الزام عائد کیا کہ وائی ایس آر سی پی نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کے لیے رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔
 
سرینواس راؤ نے 2019 کے انتخابات میں وزیانگرام ضلع کی تمام 9 اسمبلی نشستوں اور واحد لوک سبھا نشست پر وائی ایس آر سی پی کی کامیابی میں تنظیمی کردار ادا کیا تھا۔ بعد میں مقامی اداروں کے انتخابات میں ضلع کی تمام 34 ZPTC نشستیں بھی وائی ایس آر سی پی نے جیتی تھیں، جس کے بعد سرینواس راؤ ضلع پریشد چیئرمین منتخب ہوئے۔ رپورٹس میں اسے خاص طور پر شمالی آندھرا میں وائی ایس آر سی پی کے لیے بڑا تنظیمی جھٹکا قرار دیا گیا ہے۔