13 کروڑ 37 لاکھ ووٹ خارج کرنے کا الزام
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ایس آئی آر منسوخ کرنے کا مطالبہ
عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے واضح کیا ہے کہ ان کی پارٹی یکم نومبر کو ہونے والی انڈیا اتحاد کی ریلی میں شرکت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریلی انڈیا اتحاد کی ہے، جبکہ عام آدمی پارٹی پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ اس اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔ اس لیے ریلی میں پارٹی کی شرکت کے حوالے سے کوئی الجھن نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم، سنجے سنگھ نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (SIR) کے عمل اور الیکشن کمیشن کے کردار پر سخت سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے نام پر ملک بھر میں 13 کروڑ 37 لاکھ ووٹ خارج کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ایس آئی آر کا عمل منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا۔
گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ
سنجے سنگھ نے کہا کہ عام آدمی پارٹی مسلسل ووٹ چوری کا معاملہ اٹھاتی رہی ہے۔ ان کے مطابق، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے ساتھ جیل بھیجا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اگر انتخابی فہرستوں سے ووٹروں کے نام 'منطقی تضادات' (Logical Discrepancies) کی بنیاد پر ہٹائے گئے ہیں تو مغربی بنگال میں ہونے والے انتخابات کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کیا جانا چاہیے۔
دہلی سمیت کئی ریاستوں میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ
دہلی کی مثال دیتے ہوئے سنجے سنگھ نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے اسمبلی حلقے میں انتخابی فہرستوں سے 40 ہزار نام ہٹا دیے گئے تھے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ دہلی اسمبلی انتخابات کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔ انہوں نے بہار، ہریانہ، کرناٹک اور مہاراشٹر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جن ریاستوں میں انتخابی فہرستوں میں اس طرح کی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، وہاں دوبارہ انتخابات کرائے جانے چاہئیں۔ سنجے سنگھ کے مطابق، یہ مطالبہ لوک سبھا اور اسمبلی، دونوں انتخابات کے لیے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن انتخابات میں اس طرح کی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، انہیں منسوخ کرکے دوبارہ منعقد کیا جانا چاہیے۔







