Saturday, October 31, 2026 | 19 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • یمن میں حوثیوں کے میزائل حملے، عدن ایئرپورٹ اور صدارتی محل نشانہ

یمن میں حوثیوں کے میزائل حملے، عدن ایئرپورٹ اور صدارتی محل نشانہ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 31 Oct 2026

یمن میں حوثیوں کے میزائل حملے، عدن ایئرپورٹ اور صدارتی محل نشانہ
مدینہ کی جانب ڈرون بھیجنے کا بھی الزام
سعودی اتحاد نے ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، حوثیوں کی تردید
 
یمن میں حوثی باغیوں نے جنوبی شہرعدن کے ایئرپورٹ اورالمعاشیق صدارتی محل کمپلیکس کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ دوسری جانب سعودی اور یمنی حکام نے الزام لگایا کہ حوثیوں نے سعودی شہر مدینہ کی طرف بھی ایک ڈرون بھیجا، جسے سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے روک کر تباہ کر دیا۔ تاہم، حوثیوں نے سعودی سرزمین پر کسی نئی فوجی کارروائی کی تردید کی ہے۔
 
عدن میں صدارتی محل پر دو میزائل داغے گئے
 
یمنی حکومت کے فوجی ترجمان نے بتایا کہ عدن ایئرپورٹ اور المعاشیق صدارتی محل کمپلیکس پر میزائل حملے کیے گئے۔ پولیس کے ایک افسر نے میڈیا کو بتایا کہ صدارتی محل کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، شہر میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ دو عینی شاہدین نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے ایمبولینسوں کو صدارتی محل کمپلیکس کی طرف جاتے دیکھا۔ تاہم، حکام نے تاحال کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق نہیں کی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ میزائل اپنے اہداف پر لگے یا نہیں۔
 
مدینہ کی جانب ڈرون بھیجنے کا الزام
 
عدن میں حملوں کے دوران سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا کہ اس نے مدینہ کے علاقے میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا ہے۔ سعودی اور یمنی حکام نے اس ڈرون کو حوثیوں کی کارروائی قرار دیا۔ مدینہ میں مسجد نبوی واقع ہے، جو مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ اس سے پہلے بھی سعودی اتحاد نے مکہ کے علاقے میں ڈرون روکنے اور تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
 
بدھ کو بھی عدن ایئرپورٹ پر حملہ ہوا تھا
 
جمعہ کے حملوں سے قبل بدھ کے روز بھی عدن ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حملے سے پہلے حوثیوں نے لوگوں کو ہوائی اڈے سے دور رہنے کی وارننگ دی تھی۔ عدن ایئرپورٹ جنوبی یمن میں انسانی امداد پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ سعودی عرب ماضی میں بھی حوثیوں پر مکہ اور مدینہ کے اطراف حملوں کی کوشش کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے۔ ستمبر میں سعودی اتحاد نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مکہ کے جنوب میں ایک ڈرون کو تباہ کیا، جو اس کے مطابق ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
 
حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے کی تردید کی
 
حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے  سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں سعودی عرب کی جانب ڈرون بھیجنے کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے گروہ نے سعودی سرزمین کے خلاف کوئی نئی فوجی کارروائی نہیں کی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، حوثیوں کی کارروائیوں میں صرف سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یوں عدن میں میزائل حملوں اور مدینہ کی جانب ڈرون بھیجنے کے الزامات کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، تاہم سعودی اتحاد اور حوثیوں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔