Saturday, October 31, 2026 | 19 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • یوپی میں یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے امت شاہ کا اعلان۔ اکھلیش یادونے کیا طنزیہ

یوپی میں یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے امت شاہ کا اعلان۔ اکھلیش یادونے کیا طنزیہ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 30 Oct 2026

یوپی میں یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے امت شاہ کا اعلان۔ اکھلیش یادونے کیا طنزیہ
مرکزی وزیر داخلہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما امت شاہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اتر پردیش میں بی جے پی مسلسل تیسری بار حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو ریاست میں یکساں سیول کوڈ نافذ کیا جائے گا۔ یہ اعلان جمعہ کو لکھنؤ میں بی جے پی کی دو روزہ ریاستی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ سے خطاب کے دوران سامنے آیا، جہاں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، نائب وزرائے اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور برجیش پاٹھک، ریاستی بی جے پی صدر پنکج چودھری اور دیگر سینئر رہنما موجود تھے۔
 
اترپردیش میں بی جےپی اقتدار  کے واپسی پر یوسی سی 
امت شاہ نے کہا کہ ملک کی کئی ریاستوں میں یکساں سیول کوڈ کا نفاذ ہو چکا ہے اور اتر پردیش میں بھی بی جے پی کی تیسری بار واپسی پر اسے عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ امت شاہ نے اپنے خطاب میں بی جے پی کے انتخابی وعدوں کی تکمیل کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی نے جو عزم کیا تھا، اسے پورا کر کے دکھایا ہے۔ انہوں نے خصوصاً جموں و کشمیر سے آئین کی دفعہ 370 کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مثال بتاتی ہے کہ بی جے پی اپنے منشور کے وعدوں پر عمل درآمد کی اہل ہے، اور اسی تسلسل میں اتر پردیش میں یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی کا راستہ اختیار کر کے شادی، طلاق، وراثت اور گود لینے جیسے شہری معاملات میں یکساں ضابطے قائم کیے جائیں گے تاکہ مختلف برادریوں کے لیے مختلف پرسنل لاز کی جگہ ایک مشترکہ فریم ورک نافذ ہو۔
 
اکھلیش یادو کا طنز
اس اعلان کے فوراً بعد ریاستی سیاست میں بحث نے زور پکڑ لیا۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے مختصر جملے میں کہا، “بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے”، جسے بی جے پی کے اعلان کے وقت اور نیت پر سوال اٹھایا ۔ اکھلیش یادو نے اپنے بیان میں مزید کوئی تفصیل تو نہیں دی، مگر ان کا طنز آئندہ انتخابات کے تناظر میں بی جے پی کی حکمت عملی پر نشانہ سمجھے جانے لگا ہے۔
 
کانگریس کی بی جےپی پر تنقید
دوسری جانب کانگریس بھی اس معاملے پر بی جے پی کو مسلسل ہدف تنقید بناتی رہی ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے گزشتہ ماہ الزام عائد کیا تھا کہ مودی حکومت یکساں سیول کوڈ کے ایشو کو حقیقی قانونی اصلاحات کے بجائے سماج میں تقسیم پیدا کرنے اور سیاسی توجہ ہٹانے کے لیے بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ کیا دستور ساز اسمبلی نے کبھی یہ تصور کیا تھا کہ ملک کی ہر ریاست اپنا الگ الگ یکساں سیول کوڈ تیار کرے گی، یا اس نوعیت کی بڑی اصلاح کے لیے وسیع، جامع اور ہمہ گیر مشاورت ناگزیر نہیں؟ کانگریس کی یہ رائے بی جے پی کے اس بیانیے کے بالمقابل کھڑی ہے جس میں یکساں سیول کوڈ کو مساوی شہریت اور یکسانیت کے اصول سے جوڑا جاتا ہے۔
 
اگلےسال یوپی الیکشن کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں تیز
سیاسی پس منظر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے اگلے مرحلے کے لیے بی جے پی نے اپنی تنظیمی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں، اور 2027 کو ہدف بناتے ہوئے بیانیے کی تشکیل پر کام جاری ہے۔ مبصرین کے مطابق امت شاہ کی یہ پیش بندی ووٹرز کے ایک وسیع طبقے تک یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ پارٹی بڑی اور دور رس قانونی تبدیلیوں کے لیے سنجیدہ ہے۔ تاہم مخالف فریق اسے انتخابی حکمت عملی اور ایجنڈا سیٹنگ سے تعبیر کر رہا ہے۔
 
یکساں سیول کوڈ کے تصور کی رو سے، ملک کے تمام شہریوں کے لیے شادی، طلاق، وراثت اور گود لینے جیسے نجی اور خاندانی معاملات میں یکساں قانونی اصول نافذ کیے جائیں گے۔ فی الحال مختلف مذہبی برادریوں کے پرسنل لاز ان شعبوں میں نافذ العمل ہیں، جس کے سبب ایک ہی نوعیت کے معاملات میں مختلف قانونی نتائج سامنے آتے ہیں۔ یکساں سیول کوڈ کے حامیوں کا موقف ہے کہ یہ آئینی مساوات، خواتین کے حقوق کے تحفظ اور قانونی وضاحت کے لیے مفید ہے۔ مخالفین کا استدلال ہے کہ ہندوستانی معاشرے کی تہذیبی و مذہبی تنوع کو نظر انداز کر کے یکسانیت مسلط کرنے سے اختلافات اور بے اعتمادی بڑھ سکتی ہے، لہٰذا کسی بھی تبدیلی سے قبل وسیع، شفاف اور حقیقت پسندانہ مشاورت ضروری ہے۔ ملکی سطح پر حالیہ برسوں میں کچھ ریاستوں نے اس سمت عملی قدم بڑھائے ہیں۔