لکھنؤ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کے روز راہل گاندھی اور اکھلیش یادو پر ’ووٹ چوری‘ کے الزامات کے متعلق کرکٹ کی مثال دے کر نشانہ سادھا اور اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں بحث کا کھلا چیلنج دے دیا۔ امت شاہ نے اعلان کیا کہ حکومت اس معاملے پر خصوصی پارلیمانی اجلاس بلانے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اپوزیشن سامنے آئے اور ایوان میں تفصیلی بحث کرے۔ یہ پیشکش اس وقت کی گئی جب اپوزیشن چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے الیکشن عمل میں بے ضابطگیوں کا الزام عائد کر رہی ہے۔
شکست کےبعد امپائر کو قصووار ٹھہرادیتےہیں
امت شاہ نے کہا کہ راہل گاندھی اور اکھلیش یادو ہار کے بعدسخت محنت کرنےکے بجائے امپائر کو قصوروار ٹھہرا دیتے ہیں۔ ان کے بقول، اگر واقعی انہیں شفافیت چاہیے تو پارلیمنٹ میں آئیں، بی جے پی ہر سوال کا جواب دینے کو تیار ہے، خصوصی اجلاس ابھی بلالیتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ کانگریس لیڈر اس بحث پر آمادہ نہیں ہوں گے کیونکہ ان کی ترجیح سڑکوں پر تماشا کھڑا کرنا ہے۔
امت شاہ کے بیان پر بڑی اہمیت
اس اعلان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ حالیہ دنوں میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں کہ حکومت حد بندی اور خواتین ریزرویشن سے متعلق دستوری ترمیمی بلوں پر پیش رفت کے لیے جلد ایک خصوصی اجلاس بلا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس، جو 13 اگست کو ملتوی ہوا، ابھی تحلیل نہیں کیا گیا بلکہ محض غیر معینہ مدت تک مؤخر کیا گیا ہے، جب کہ عموماً دونوں ایوان اجلاس کے اختتام پر تحلیل کر دیے جاتے ہیں۔ یہ دستوری عمل باضابطہ طور پر سیشن کے خاتمے کی نشاندہی کرتا ہے۔
اپوزیشن نے سی ای سی کو ہٹانے کی مانگ کی
وزیر داخلہ کا یہ چیلنج ایسے وقت آیا ہے جب راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن سی ای سی کے خلاف ایس آئی آر عمل میں مبینہ بے قاعدگیوں پر برہم ہے، اور الزام ہے کہ اس کے نتیجے میں تقریباً 13 کروڑ ووٹر فہرست سے محروم ہوئے۔ پچھلے چند ہفتوں میں انڈیا بلاک اور کاکروچ جنتا پارٹی کے بینر تلے دارالحکومت کے قلب میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے۔ فوری محرک ایک اخباری تحقیق بنی جس میں انکشاف ہوا کہ الیکشن کمیشن کے دو کمشنروں نے ایس آئی آر عمل سے متعلق مختلف فیصلوں پر اعتراضات درج کرائے تھے، جسے اپوزیشن نے گیانیش کمار اور مودی حکومت کے خلاف اپنی وسیع تر ’ووٹ چوری‘ مہم سے جوڑ لیا ہے۔
بی جےپی کو اقتدار سے کوئی ہلا نہیں سکتا
یوپی کے آئندہ انتخابات پر نظر ڈالتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ اتر پردیش، جو لگ بھگ 6 ماہ بعد پولنگ کی طرف بڑھے گا، میں بی جے پی مسلسل تیسری بار اقتدار میں آئے گی۔ انہوں نے رامائن کے کردار انگد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی انگد کے اس پاؤں کی مانند ہے جسے کوئی ہلا نہیں سکتا۔ ان کے مطابق پارٹی آئندہ 30 برس تک یوپی اور مرکز کی سیاست پر اثرانداز رہے گی۔ شاہ نے کارکنوں سے کہا کہ وہ مہابھارت کے ارجن کی طرح ہدف پر نظریں جمائے رکھیں اور مسلسل تیاری کریں تاکہ لگاتار تیسری حکومت قائم کی جا سکے۔ خطاب کے اختتام پر شاہ نے سماج وادی پارٹی کے لیے سخت پیغام دیا۔






