Saturday, October 31, 2026 | 19 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • عادل آباد میں 25 سالہ دلت نوجوان کی خودکشی، اسپتال عملے اور پولیس پر ہراسانی کا الزام

عادل آباد میں 25 سالہ دلت نوجوان کی خودکشی، اسپتال عملے اور پولیس پر ہراسانی کا الزام

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 31 Oct 2026

عادل آباد میں 25 سالہ دلت نوجوان کی خودکشی، اسپتال عملے اور پولیس پر ہراسانی کا الزام
راہل نے مبینہ طور پر خودکشی نوٹ میں اسپتال عملے کی تضحیک اور پولیس تشدد کا ذکر کیا
دلت تنظیموں کا رِمز کے باہر احتجاج
 
تلنگانہ کے عادل آباد میں 25 سالہ دلت نوجوان راہل نے مبینہ طور پر ذلت اور ہراسانی سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کرلی۔ اہلِ خانہ کے مطابق راہل پونے میں ملازمت کرتا تھا اور دسہرہ کی چھٹیوں میں اپنے گھر آیا ہوا تھا۔ بتایا گیا کہ بدھ کے روز راہل کو بچھو نے کاٹ لیا، جس کے بعد وہ علاج کے لیے راجیو گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (رِمز) پہنچا۔ اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ اسپتال میں بنیادی سہولتوں کی کمی تھی اور ڈاکٹروں، نرسوں سمیت عملے نے بروقت توجہ نہیں دی۔
 
اہلِ خانہ کے مطابق، اسپتال کے حالات اور اپنی پریشانی کو ریکارڈ کرنے کے لیے راہل نے ویڈیو بنانا شروع کی، جس کے دوران اس کی اسپتال عملے سے تکرار ہوگئی۔ بتایا گیا کہ ایک نرس نے پولیس کو بلا لیا۔ پولیس کے پہنچنے کے بعد راہول کو تھانے لے جایا گیا، جہاں اس کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 270 کے تحت عوامی خلل پیدا کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا۔
 
خودکشی نوٹ میں اسپتال اور پولیس پر الزامات
 
گھر واپس آنے کے بعد راہول نے مبینہ طور پر ایک خودکشی نوٹ لکھا، جس میں اس نے اسپتال عملے کی جانب سے تضحیک اور پولیس کے تشدد کا الزام لگایا۔ اس کے بعد اس نے اپنی جان لے لی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد دلت تنظیموں نے جمعرات کو رِمز اسپتال کے باہر دھرنا دیا اور راہل کے اہلِ خانہ کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے شکایات کی بنیاد پر ڈاکٹر سوربھ، نرس ممتا، ٹو ٹاؤن ہیڈ کانسٹیبل فتح سنگھ، بلو کولٹ کانسٹیبل جیون اور ہوم گارڈ نوین کے خلاف درج فہرست ذاتوں اور قبائل پر مظالم کی روک تھام کے قانون (ایس سی/ایس ٹی ایکٹ) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
 
بی جے پی رکن اسمبلی نے 50 لاکھ معاوضے کا مطالبہ کیا
 
بی جے پی کے رکن اسمبلی پیائل شنکر نے راہل کو خاندان کا واحد کفیل قرار دیتے ہوئے واقعے کی فوری اور مقررہ مدت میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دینے اور 50 لاکھ روپے معاوضہ فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتال عملے کی جانب سے پولیس کو شکایت کرنا اور اس کے بعد پولیس کی مبینہ ہراسانی درست نہیں تھی۔ انہوں نے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔