Saturday, October 31, 2026 | 19 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • خواتین پہلوانوں کے الزامات کے باوجود برج بھوشن سنگھ کی بی جے پی اتر پردیش مجلسِ عاملہ میں شمولیت، فیصلے پر سیاسی ہلچل

خواتین پہلوانوں کے الزامات کے باوجود برج بھوشن سنگھ کی بی جے پی اتر پردیش مجلسِ عاملہ میں شمولیت، فیصلے پر سیاسی ہلچل

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 31 Oct 2026

خواتین پہلوانوں کے الزامات کے باوجود برج بھوشن سنگھ کی بی جے پی اتر پردیش مجلسِ عاملہ میں شمولیت، فیصلے پر سیاسی ہلچل
خواتین پہلوانوں کی اپیل ابھی عدالت میں زیرِ سماعت
سی پی آئی (ایم ایل) نے تقرری پر تنقید کرتے ہوئے اسے خواتین کی جدوجہد کی توہین قرار دیا
 
بھارتیہ جنتا پارٹی نے سابق رکن پارلیمنٹ اور ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے سابق صدر برج بھوشن شرن سنگھ کو اتر پردیش کی ریاستی مجلسِ عاملہ میں شامل کر لیا ہے۔ 26 اکتوبر کو بی جے پی کے ریاستی صدر پنکج چودھری نے نئی مجلسِ عاملہ کا اعلان کیا، جس میں پہلی مرتبہ برج بھوشن سنگھ کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بی جے پی 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ 30 اور 31 اکتوبر کو لکھنؤ میں پارٹی کی اہم میٹنگ ہونے والی ہے، جس میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی شرکت متوقع ہے۔
 
خواتین پہلوانوں کے مقدمے میں بریت کے خلاف اپیل
 
برج بھوشن سنگھ کی تنظیمی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خواتین پہلوانوں کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات سے متعلق مقدمہ ایک بار پھر قانونی کارروائی کے مرحلے میں ہے۔ اگست 2026 میں دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے برج بھوشن سنگھ اور ریسلنگ فیڈریشن کے سابق اسسٹنٹ سکریٹری ونود تومر کو مقدمے میں بری کر دیا تھا۔ تاہم 25 ستمبر کو چار خواتین پہلوانوں نے اس فیصلے کے خلاف فوجداری اپیل دائر کی۔ پہلوانوں نے نچلی عدالت کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے الزام لگایا کہ شواہد کا انتخابی جائزہ لیا گیا اور دقیانوسی تصورات کی بنیاد پر فیصلہ سنایا گیا۔ 28 اکتوبر کو خصوصی جج دگ ونئے سنگھ نے برج بھوشن سنگھ کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے آخری موقع دیتے ہوئے ایک ہفتے کی مہلت دی۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 20 نومبر کو مقرر کی گئی ہے۔
 
سی پی آئی (ایم ایل) نے تقرری پر اٹھائے سوال
 
سی پی آئی (ایم ایل) نے برج بھوشن سنگھ کو ریاستی مجلسِ عاملہ میں شامل کرنے کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ پارٹی کے ریاستی سکریٹری سدھاکر یادو نے کہا کہ یہ فیصلہ خواتین پہلوانوں کی طویل جدوجہد کی توہین ہے اور انصاف کے لیے لڑنے والی خواتین کے حوصلے کو کمزور کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب خواتین پہلوانوں کی اپیل عدالت میں زیرِ سماعت ہے، ایسے وقت میں برج بھوشن سنگھ کو تنظیمی عہدہ دینا نامناسب پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو بی جے پی کی سیاسی ترجیحات سے بھی جوڑا۔
 
2023 میں پہلوانوں نے کیا تھا احتجاج
 
واضح رہے کہ 2023 میں ونیش پھوگاٹ، ساکشی ملک اور بجرنگ پونیا سمیت کئی معروف پہلوانوں نے برج بھوشن سنگھ کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ پہلوانوں نے ان پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگاتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے برج بھوشن سنگھ کو قیصر گنج سے ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ ان کی جگہ ان کے بیٹے کرن بھوشن سنگھ کو امیدوار بنایا گیا، جنہوں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ اب برج بھوشن سنگھ کو ریاستی مجلسِ عاملہ میں شامل کیے جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر بحث شروع ہوگئی ہے، جبکہ خواتین پہلوانوں کی جانب سے دائر اپیل پر عدالتی کارروائی جاری ہے۔