Saturday, October 31, 2026 | 19 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • کھیل/تفریح
  • »
  • آبنائے ہرمز میں ہندوستانی عملے والے تیل بردار جہاز پر حملہ، انجن روم میں لگی آگ

آبنائے ہرمز میں ہندوستانی عملے والے تیل بردار جہاز پر حملہ، انجن روم میں لگی آگ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 31 Oct 2026

آبنائے ہرمز میں ہندوستانی عملے والے تیل بردار جہاز پر حملہ، انجن روم میں لگی آگ
پناما کے پرچم بردار ایم ٹی لوئیز 1 پر 27 ہندوستانی شہری سوار تھے
عملے نے آگ پر قابو پالیا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
 
آبنائے ہرمز میں پناما کے پرچم بردار تیل بردار جہاز ایم ٹی لوئیز 1 پر حملہ ہوا، جس کے بعد جہاز کے انجن روم میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس جہاز پر عملے کے طور پر 27 ہندوستانی شہری سوار تھے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، ایک چھوٹی کشتی کے ذریعے جہاز کے نچلے حصے پر دو لِمپیٹ بارودی سرنگیں چپکائی گئیں۔ ان کے دھماکے سے آگ لگی اور کچھ وقت کے لیے جہاز کا کام کاج متاثر ہوا۔ تاہم عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ بجھا دی۔ واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا اور سمندر میں تیل بھی نہیں پھیلا۔ بعد ازاں ٹینکر نے اپنی منزل کی جانب سفر دوبارہ شروع کر دیا۔
 
عمان کے قریب پیش آیا واقعہ
 
برطانیہ کی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی یو کے ایم ٹی او کے مطابق، یہ واقعہ عمان کے شہر خصب سے تقریباً 46 کلومیٹر شمال مشرق میں پیش آیا۔ ادارے نے علاقے میں موجود دیگر بحری جہازوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔ فروری میں خطے میں جنگی کشیدگی شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں لِمپیٹ مائنز کے ذریعے یہ پہلا کامیاب حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق، اس آبی گزرگاہ میں ان بارودی سرنگوں کا استعمال پہلی مرتبہ 2017 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد بھی وقفے وقفے سے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے یہی طریقہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
 
چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بارودی سرنگیں چپکانے کا طریقہ
 
یونان کی میری ٹائم سکیورٹی کمپنی میریسکس کے مطابق، لِمپیٹ مائنز نسبتاً سستی اور آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں۔ چھوٹی کشتی کے ذریعے انہیں گزرتے ہوئے جہاز کے نچلے حصے پر چپکایا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق، یہ کم خرچ لیکن مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس واقعے سے محض ایک روز قبل لائبیریا کے پرچم بردار بڑے تیل بردار جہاز ایم ٹی ارزانہ پر بھی حملے کی اطلاع ملی تھی۔ اس جہاز پر دو ہندوستانی شہری سوار تھے۔
 
آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی سلامتی پر تشویش
 
مشاہدہ کاروں کے مطابق، فروری سے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ حملے نے اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی سے متعلق خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔