Wednesday, November 04, 2026 | 23 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • عبدال السید نے مشی گن سے سینیٹ نشست جیت لی، امریکہ کے پہلے مسلمان سینیٹر بننے کا اعزاز

عبدال السید نے مشی گن سے سینیٹ نشست جیت لی، امریکہ کے پہلے مسلمان سینیٹر بننے کا اعزاز

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 04 Nov 2026

عبدال السید نے مشی گن سے سینیٹ نشست جیت لی، امریکہ کے پہلے مسلمان سینیٹر بننے کا اعزاز
ڈیموکریٹ امیدوار نے ریپبلکن حریف مائیک راجرز کو شکست دی
غیر سرکاری نتائج میں 50.88 فیصد ووٹ حاصل کیے
 
امریکی ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹ رہنما عبدال السید نے سینیٹ کی نشست جیت کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ وہ امریکہ کے پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہوئے ہیں۔ منگل 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد بدھ 4 نومبر کی صبح ڈیسیژن ڈیسک ایچ کیف نے ان کی کامیابی کا اعلان کیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق عبدال السید نے 18 لاکھ 97 ہزار 833 ووٹ حاصل کیے، جو مجموعی ووٹوں کا 50.88 فیصد ہیں۔ ان کے ریپبلکن حریف اور سابق رکنِ کانگریس مائیک راجرز کو 17 لاکھ 58 ہزار 7 ووٹ ملے، جو 47.14 فیصد بنتے ہیں۔ اس وقت تک متوقع ووٹوں میں سے تقریباً 77 فیصد کی گنتی مکمل ہو چکی تھی۔ عبدال السید نے مشی گن کے مختلف علاقوں میں ملنے والی حمایت کی بنیاد پر اپنے حریف پر برتری حاصل کی۔
 
مصر سے تعلق رکھنے والے امریکی سیاست دان
 
42 سالہ عبدال السید مصری نژاد امریکی ہیں۔ ان کی پیدائش 31 اکتوبر 1984 کو مشی گن کے شہر راچسٹر ہِلز میں مصری تارکینِ وطن والدین کے گھر ہوئی۔ انہوں نے ڈیٹرائٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پرورش پائی۔ عبدال السید نے 2007 میں یونیورسٹی آف مشی گن سے حیاتیات اور سیاسیات میں ڈگریاں حاصل کیں۔ بعد ازاں رہوڈز اسکالر کی حیثیت سے یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں پبلک ہیلتھ میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کی۔ 
 
2014 میں انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیمی میدان میں انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی میں وبائیات کی تدریس بھی کی۔ اس کے بعد سرکاری خدمات سے وابستہ ہوئے اور 2015 میں صرف 30 سال کی عمر میں ڈیٹرائٹ کے ہیلتھ ڈائریکٹر مقرر کیے گئے۔ بعد میں 2023 سے 2025 تک انہوں نے وین کاؤنٹی کے محکمہ صحت، انسانی اور ویٹرنز سروسز کی سربراہی کی۔
 
گورنر کی دوڑ سے سینیٹ تک کا سفر
 
عبدال السید نے پہلی بار 2018 میں بڑے انتخابی مقابلے میں حصہ لیا تھا۔ اس وقت انہوں نے مشی گن کے گورنر کے عہدے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن گریچن وائٹمر سے ہار گئے۔ وائٹمر بعد میں ریاست کی گورنر منتخب ہوئیں۔ عبدال السید نے اپریل 2025 میں سینیٹ انتخابات کے لیے اپنی مہم شروع کی۔ ان کے انتخابی ایجنڈے میں میڈیکیر فار آل، یعنی تمام امریکی شہریوں کے لیے جامع صحت بیمہ کی سہولت کو وسعت دینا، اہم وعدہ تھا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ سیاسی ایکشن کمیٹیوں سے چندہ قبول نہیں کریں گے، تاکہ کارپوریٹ اداروں اور مخصوص مفادات کے اثر و رسوخ کو محدود رکھا جا سکے۔ اگست 2026 میں ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری میں انہوں نے 48.5 فیصد ووٹ حاصل کرکے رکنِ کانگریس ہیلی اسٹیونز کو شکست دی اور عام انتخابات کے لیے پارٹی کے امیدوار نامزد ہوئے۔
 
غزہ اور امریکی فوجی امداد پرمؤقف
 
انتخابی مہم کے دوران عبدال السید نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی سخت مخالفت کی اور انہیں نسل کشی قرار دیا۔ انہوں نے اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد بند کرنے کی بھی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈیموکریٹس کو سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اکثریت ملتی ہے تو انہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جواب دہ ٹھہرانا چاہیے اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ اپنی امیدواری کی تاریخی اہمیت کے بارے میں عبدال السید نے انتخاب سے پہلے کہا تھا کہ وہ صرف تاریخ رقم کرنے کے لیے نہیں بلکہ مشی گن کے اگلے سینیٹر بننے کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔