Wednesday, October 14, 2026 | 02 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • کھیل/تفریح
  • »
  • صدیق اللہ اٹل کی سنچری نے افغانستان کو بچایا، بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ ڈرا

صدیق اللہ اٹل کی سنچری نے افغانستان کو بچایا، بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ ڈرا

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 14 Oct 2026

صدیق اللہ اٹل کی سنچری نے افغانستان کو بچایا، بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ ڈرا
ابوظہبی کے شیخ زاید اسٹیڈیم میں افغانستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کھیلا گیا واحد ٹیسٹ میچ ڈرا پر ختم ہوا۔ افغانستان نے دوسری اننگز میں 142 اوورز تک بیٹنگ کی اور شکست سے بچنے میں کامیاب رہا۔ بنگلہ دیش نے افغانستان کو جیت کے لیے 479 رنز کا ہدف دیا تھا، لیکن افغان ٹیم نے 8 وکٹوں کے نقصان پر 346 رنز بنا کر میچ ڈرا کرا دیا۔ صدیق اللہ اٹل کی سنچری اور قیس احمد کی ذمہ دارانہ بیٹنگ نے افغانستان کو مشکل صورتِ حال سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
 
بنگلہ دیش نے اپنی پہلی اننگز میں 346 رنز بنائے۔ تنزید حسن تمیم نے 83 رنز اور لٹن داس نے 53 رنز کی اہم اننگز کھیلیں۔ افغانستان کی جانب سے محمد سلیم صافی نے 4، یامین احمد زئی نے 3 اور عصمت عالم نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ جواب میں افغانستان کی پہلی اننگز 240 رنز پر سمٹ گئی۔ کپتان رحمت شاہ نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے ناٹ آؤٹ 105 رنز بنائے، لیکن انہیں دوسرے بلے بازوں سے خاص  تعاون نہیں مل سکا۔ بنگلہ دیش کے حسن محمود نے 5 اور عبادت حسین نے 4 وکٹیں حاصل کرکے افغان بلے بازوں کو مشکلات میں ڈال دیا۔
 
پہلی اننگز میں 106 رنز کی برتری حاصل کرنے کے بعد بنگلہ دیش نے اپنی دوسری اننگز 372 رنز پر ڈکلیئر کر دی۔ کپتان نجم الحسین شانتو نے 82، مشفیق الرحیم نے 81 اور لٹن داس نے 102 رنز بنائے۔ اس طرح افغانستان کو جیت کے لیے 479 رنز کا مشکل ہدف ملا۔ ہدف کے تعاقب میں افغانستان کا آغاز اچھا نہیں رہا۔ عبدالمالک 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ شاہد اللہ کمال نے 19 رنز بنائے۔ اس کے بعد رحمت شاہ اور صدیق اللہ اٹل نے تیسری وکٹ کے لیے 82 رنز کی شراکت داری قائم کرکے ٹیم کو سنبھالا۔ رحمت شاہ 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ صدیق اللہ اٹل نے ذمہ داری کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے شاندار سنچری اسکور کی۔ ان کی اننگز میں 9 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے۔ حشمت اللہ شاہدی نے 36 اور اکرام علی نے 33 رنز بنائے، جبکہ عصمت عالم صرف 4 رنز بنا سکے۔
 
اٹل کی وکٹ گرنے کے بعد افغانستان کا اسکور 7 وکٹوں کے نقصان پر 281 رنز تھا اور ٹیم پر شکست کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔ ایسے میں یامین احمد زئی اور قیس احمد نے آٹھویں وکٹ کے لیے 110 گیندوں پر 45 رنز کی اہم شراکت داری قائم کی۔ یامین 19 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے، لیکن قیس احمد نے ہمت نہیں ہاری اور 80 گیندوں پر 49 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ انہوں نے ضیاء الرحمٰن کے ساتھ نویں وکٹ کے لیے 20 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت داری قائم کی اور ٹیم کو شکست سے بچانے میں مدد دی۔
 
بنگلہ دیش کی جانب سے دونوں اننگز میں عمدہ کارکردگی دکھانے والے لٹن داس کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ انہوں نے پہلی اننگز میں 53 اور دوسری اننگز میں 102 رنز بنائے۔ اگرچہ بنگلہ دیش میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوا، لیکن افغانستان نے دوسری اننگز میں طویل اور صبر آزما بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقابلہ ڈرا کرا دیا۔ صدیق اللہ اٹل کی سنچری اور آخری وکٹوں پر مزاحمت اس میچ کے نمایاں پہلو رہے۔