Wednesday, October 14, 2026 | 02 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • دیوالی سے پہلے چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے حکومت کا بڑا قدم

دیوالی سے پہلے چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے حکومت کا بڑا قدم

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 14 Oct 2026

دیوالی سے پہلے چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے حکومت کا بڑا قدم
دیوالی کے تہوار سے پہلے چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے اور بازار میں مناسب سپلائی یقینی بنانے کے لیے حکومت نے اہم قدم اٹھایا ہے۔ چینی کی ملوں سے نکلنے والی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد، حکومت نے منگل کو اکتوبر کے دوسرے پندرہ روزہ عرصے، یعنی 13 سے 31 اکتوبر تک، کے لیے شوگر ملوں کو 14 لاکھ ٹن چینی کا کوٹہ جاری کیا ہے۔ گزشتہ 10 دنوں میں چینی کی ایک کوئنٹل کی قیمت میں تقریباً ایک ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں حکومت نے مقررہ وقت سے دو دن پہلے کوٹہ جاری کیا، تاکہ دیوالی سے قبل بازار میں چینی کی کمی نہ ہو اور قیمتوں میں مزید اضافہ روکا جا سکے۔ اس سے پہلے ستمبر کے لیے 26.5 لاکھ ٹن اور اکتوبر کے لیے 30 لاکھ ٹن چینی مختص کی گئی تھی۔
 
دیوالی 8 نومبر کو منائی جائے گی۔ اس موقع پر مٹھائیاں بنانے والوں اور عام صارفین کی جانب سے چینی کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ حکومت کے نئے ضوابط کے مطابق، شوگر ملوں کو مختص کوٹے کی چینی سات دن کے اندر سپلائی کے لیے روانہ کرنا ضروری ہے۔ کوٹہ دو دن پہلے جاری ہونے سے ملوں کو تاجروں تک چینی پہنچانے کے لیے اضافی وقت ملا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس قدم سے تہوار کے قریب بازار میں قلت پیدا ہونے اور قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات کم ہوں گے۔
 
محکمہ خوراک و عوامی تقسیم (Department of Food and Public Distribution) کے مطابق، مہاراشٹر، اتر پردیش اور کرناٹک کو مجموعی طور پر 11.59 لاکھ ٹن چینی مختص کی گئی ہے۔ یہ جاری کیے گئے کل کوٹے کا تقریباً 83 فیصد ہے۔ مہاراشٹر کو 4.76 لاکھ ٹن، اتر پردیش کو 4.51 لاکھ ٹن اور کرناٹک کو 2.32 لاکھ ٹن چینی دی گئی ہے۔ اس عمل میں شامل 587 ملوں میں سے 134 کو کوئی کوٹہ نہیں ملا، جبکہ 39 ملوں کو 100 ٹن تک چینی مختص کی گئی ہے۔ حکومت نے اکتوبر کے دوسرے پندرہ روزہ عرصے کے لیے شری رینوکا شوگرز کو 1.30 لاکھ ٹن اور شری دتہ انڈیا کو 70 ہزار ٹن چینی کا کوٹہ دیا ہے۔
 
ان دونوں کمپنیوں کے پاس ایڈوانس آتھرائزیشن اسکیم کے تحت درآمد شدہ چینی کا تین لاکھ ٹن کا کوٹہ موجود تھا، جس میں سے 2.65 لاکھ ٹن چینی بازار میں فروخت کرنے کی اجازت تھی۔ تاہم، یکم ستمبر سے 15 اکتوبر کے درمیان انہوں نے 60 ہزار ٹن سے بھی کم چینی فروخت کی۔ اس کی اہم وجہ درآمدی چینی کی زیادہ لاگت اور مقامی بازار میں ملوں سے نکلنے والی چینی کی نسبتاً کم قیمت بتائی گئی ہے۔ ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے ریفائنریز نے اپنا ذخیرہ فروخت کرنے میں احتیاط برتی، جس سے بازار میں سپلائی کم ہوئی اور قیمتوں میں تیزی آئی۔
 
محکمہ امورِ صارفین کے اعداد و شمار کے مطابق، 13 اکتوبر کو ملک میں چینی کی اوسط خوردہ قیمت 56.67 روپے فی کلوگرام رہی، جبکہ اوسط تھوک قیمت 5,254.91 روپے فی کوئنٹل درج کی گئی۔ حکومت کی جانب سے اضافی کوٹہ جاری کرنے کا مقصد بازار میں چینی کی دستیابی بڑھانا اور دیوالی کے دوران بڑھتی ہوئی طلب کے باوجود قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔