Wednesday, October 14, 2026 | 02 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • ایس آئی آر کے خلاف راہل گاندھی کے بعد اویسی بھی سپریم کورٹ پہنچے، 26 اکتوبر کو سماعت

ایس آئی آر کے خلاف راہل گاندھی کے بعد اویسی بھی سپریم کورٹ پہنچے، 26 اکتوبر کو سماعت

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 14 Oct 2026

ایس آئی آر کے خلاف راہل گاندھی کے بعد اویسی بھی سپریم کورٹ پہنچے، 26 اکتوبر کو سماعت
چیف الیکشن کمشنر اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی ایس آئی آر کے خلاف راہل گاندھی اور اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست باضابطہ طور پر رجسٹر کر لی گئی ہے۔ رجسٹری کی جانب سے بتائی گئی تکنیکی خامیوں کو دور کرنے کے بعد درخواست کو رٹ پٹیشن نمبر بھی دے دیا گیا ہے۔ فی الحال، اس معاملے کی سماعت کے لیے 26 اکتوبر کی تاریخ سامنے آ رہی ہے۔ دسہرہ کی تعطیلات کے بعد سپریم کورٹ 26 اکتوبر کو دوبارہ معمول کے مطابق کام شروع کرے گی۔ تاہم، عدالت 16 اکتوبر تک کھلی رہے گی۔ ایسے میں درخواست گزاروں کے وکلا کوشش کریں تو اس ہفتے بھی سماعت ممکن ہو سکتی ہے۔
 
عدالتی ریکارڈ کے مطابق، اس درخواست میں دو مزید رہنماؤں، ٹی تھروموالاوان اور سجاد احمد کچلو، کو درخواست گزار کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد درخواست گزاروں کی مجموعی تعداد 13 ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے راہول گاندھی کے ساتھ اپوزیشن کے 10 دیگر رہنما اس درخواست میں شامل تھے۔ ٹی تھروموالاوان ودوتھلائی چروتھائیگل کاچی (VCK) کے بانی ہیں، جبکہ سجاد احمد کچلو نیشنل کانفرنس کے رہنما ہیں۔
 
یہ درخواست 12 اکتوبر کو دائر کی گئی تھی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کی رجسٹری نے اس میں 14 تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔ ان میں فریقِ مخالف کے ناموں میں غلطیاں، بعض نجی فریقین کو شامل کرنے کے حوالے سے وضاحت کی کمی اور سابقہ عدالتی فیصلے کی نقل منسلک نہ کرنا شامل تھا۔ اس کے علاوہ راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کے علاوہ نو درخواست گزاروں کے وکالت نامے موجود نہیں تھے۔ کھڑگے کے شناختی کارڈ کی نقل بھی واضح نہیں تھی، جبکہ عدالتی فیس میں 220 روپے کی کمی اور دستاویزات کی طباعت سے متعلق مسائل کی بھی نشاندہی کی گئی تھی۔
 
 
عدالتی طریقۂ کار کے مطابق، درخواست میں موجود تکنیکی خامیوں کو دور کرنے کے بعد ہی اسے ججوں کے سامنے سماعت کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، یہ خامیاں 13 اکتوبر کو دور کر دی گئی تھیں، جس کے بعد درخواست باضابطہ طور پر رجسٹر ہو گئی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اپنی درخواست میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے طریقۂ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے دیگر الیکشن کمشنروں کی معلومات، رضامندی یا منظوری کے بغیر یکطرفہ فیصلے کیے۔ درخواست گزاروں نے ملک بھر میں ایس آئی آر شروع کرنے کے فیصلے سے متعلق فائلیں، سرکاری نوٹس اور دیگر ریکارڈ عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپیل کی ہے کہ مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک ملک گیر سطح پر ایس آئی آر کے عمل پر روک لگائی جائے۔ درخواست میں اس کے علاوہ بھی کئی مطالبات شامل ہیں۔
 
اویسی نے بھی ایس آئی آر کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی
 
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اویسی نے اپنی درخواست میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل کو چیلنج کیا ہے۔ اس معاملے پر سماعت کے دوران عدالت نے ان کے وکیل سے کہا کہ وہ اسی نوعیت کی دیگر زیرِ التوا درخواستوں کی فہرست پیش کریں۔ اس کا مقصد متعلقہ درخواستوں کی نشاندہی کرتے ہوئے معاملے کی سماعت کے لیے ضروری عدالتی کارروائی کو آگے بڑھانا ہے۔