کانگریس رہنما راہل گاندھی نے دہلی میں احتجاج کے دوران پولیس کے مبینہ تشدد اور بدسلوکی کا سامنا کرنے والے نوجوان مظاہرین سے ملاقات کی۔ انہوں نے نوجوانوں کو کیمروں کے سامنے بلا کر ان کی زبانی واقعے کی تفصیلات سنیں۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ وہ پرامن احتجاج کر رہے تھے، لیکن پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی اور انہیں توہین آمیز الفاظ کہے۔ مظاہرین کے مطابق، جب انہیں سنسد مارگ سے دہلی گیٹ لے جایا جا رہا تھا تو پولیس نے ان پر تشدد کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اہلکاروں نے انہیں کہا، ’’تم دلال ہو، یہاں پیسے لینے آتے ہو۔‘‘
پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’امت شاہ جی، ذرا دیکھیے، یہ ایک ہی ہندوستان ہے۔‘‘ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ واقعات کی ویڈیوز بنائیں اور ثبوت محفوظ رکھیں۔ راہل نے یقین دلایا کہ اس معاملے میں جو بھی ذمہ دار ہوگا، چاہے وہ اعلیٰ عہدے پر ہو یا نچلی سطح پر، اس کا احتساب کیا جائے گا۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ گھبرائیں نہیں۔
مظاہرین نے راہل گاندھی کو بتایا کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں پرامن طریقے سے احتجاج کر رہے تھے، اس کے باوجود انہیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سنسد مارگ سے دہلی گیٹ منتقل کیے جانے کے دوران پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی۔ مظاہرین کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے یہ بھی کہا کہ ان کی وجہ سے پولیس کا کام بڑھ گیا ہے اور فورس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے ان پر پیسے لے کر احتجاج کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
پریس کانفرنس میں راہل گاندھی نے کیرالہ سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون کی ہمت کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ’’شیرنی‘‘ کہا۔ خاتون نے الزام لگایا کہ خاتون کانسٹیبل چنچل یادو نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی تھی۔ خاتون کے مطابق، جب انہیں مارا جا رہا تھا تو انہوں نے پولیس افسر سے کہا، ’’مجھے جتنا چاہو مارو، ہم دوبارہ احتجاج میں ملیں گے۔‘‘ ان کا یہ بیان مظاہرین کی جانب سے پولیس کے مبینہ رویے کے خلاف اٹھائے گئے سوالات کا حصہ تھا۔
اس موقع پر ایک مظاہر نے بنسری پر ’’ویشنو جن تو‘‘ کی دھن بجائی اور کہا کہ نفرت کا جواب محبت سے دیا جائے گا۔ اس دوران راہل گاندھی نے مظاہرین کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی آوازوں کو مذہب، ذات یا جنس کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ مظاہرین کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے درمیان راہول گاندھی نے شفافیت اور جواب دہی کا مطالبہ کیا اور نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے ثبوت محفوظ رکھیں۔






