Tuesday, October 27, 2026 | 15 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • بابا رام دیو کے بیان پر اے آئی ایم آئی ایم کا سخت ردعمل، شاداب چوہان نے لگائے سنگین الزامات

بابا رام دیو کے بیان پر اے آئی ایم آئی ایم کا سخت ردعمل، شاداب چوہان نے لگائے سنگین الزامات

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 27 Oct 2026

بابا رام دیو کے بیان پر اے آئی ایم آئی ایم کا سخت ردعمل، شاداب چوہان نے لگائے سنگین الزامات
اویسی کو یوپی کے لیے بہترین قرار دینے پر سیاسی تنازع
اے آئی ایم آئی ایم رہنما بولے: اپنے کاروبار کو بچانے کے لیے دے رہے ہیں ایسے بیانات
 
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے قومی صدر اسد الدین اویسی کے بارے میں یوگا گرو بابا رام دیو کے ایک بیان پر سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما شاداب چوہان نے رام دیو کے تبصروں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے کاروبار کو بچانے اور حکومت کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔
 
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بابا رام دیو نے کہا تھا کہ اسد الدین اویسی دوسرے مقامات کے لیے موزوں ہوں یا نہ ہوں، لیکن اتر پردیش کے لیے وہ ’’بہترین‘‘ ہیں۔ ان کے اس بیان کو اس اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ اویسی کی سیاسی سرگرمیوں سے مسلم ووٹ تقسیم ہو سکتے ہیں، جس کا فائدہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو پہنچ سکتا ہے۔ رام دیو کے اس تبصرے کے بعد اے آئی ایم آئی ایم نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
 
اے آئی ایم آئی ایم کے ترجمان شاداب چوہان نے رام دیو کی مصنوعات اور کاروبار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کی کئی مصنوعات کے معیار پر پہلے بھی اعتراضات سامنے آ چکے ہیں۔ چوہان نے الزام لگایا کہ ان کے نوڈلز میں کیڑے نکلنے اور گھی میں ملاوٹ جیسے معاملات سامنے آنے کے بعد اب وہ اپنے کاروبار کو بچانے کے لیے حکومت کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
 
چوہان نے رام دیو کی ذات کا حوالہ دیتے ہوئے بھی ان پر تنقید کی اور الزام لگایا کہ وہ اپنے بیانات کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر رام دیو کا کاروبار ٹھپ ہو جاتا ہے تو شاید وہ اس کا الزام بھی اسد الدین اویسی پر لگا دیں گے۔ شاداب چوہان نے سماج وادی پارٹی (SP) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں جماعتیں ایسی آزاد مسلم قیادت کو آگے بڑھتے نہیں دیکھنا چاہتیں جو مسلم برادری کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے لیے کام کرے۔
 
انہوں نے دعویٰ کیا کہ رام دیو کے بیان کے پیچھے بھی یہی سیاسی سوچ کام کر رہی ہے۔ چوہان نے مزید الزام لگایا کہ سماج وادی پارٹی کے دورِ حکومت میں رام دیو نے اپنی برادری کے اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کم قیمت پر زمینیں حاصل کی تھیں۔ انہوں نے بی جے پی اور ایس پی کے درمیان سیاسی سمجھوتے کا الزام لگاتے ہوئے رام دیو کو اس میں ایک ’’دلال‘‘ قرار دیا۔ اے آئی ایم آئی ایم رہنما نے کہا کہ ان کی پارٹی آنے والے انتخابات میں پوری طاقت کے ساتھ حصہ لے گی اور ان لوگوں کو آزاد سیاسی نمائندگی فراہم کرنے کی کوشش کرے گی جنہیں ان کے بقول دوسری جماعتوں نے نظر انداز کیا ہے۔
 
شاداب چوہان نے کہا کہ ان کی پارٹی عوام کے سامنے ایک نیا سیاسی متبادل پیش کرے گی۔ ان کے مطابق، اے آئی ایم آئی ایم کا مقصد ایسی قیادت کو آگے لانا ہے جو برادری کے تعلیمی، معاشی اور سیاسی مسائل کو مؤثر طریقے سے اٹھا سکے۔ بابا رام دیو کے بیان اور اس پر اے آئی ایم آئی ایم کے سخت ردعمل نے اتر پردیش میں مسلم ووٹوں کی تقسیم اور سیاسی نمائندگی کے معاملے پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم، رام دیو اور ان کی مصنوعات کے حوالے سے شاداب چوہان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔