AISA صدر نے ایس آئی آر کا عمل روکنے اور 2023 کے قانون کی بحالی پر زور دیا
دھرو راٹھی نے بھی عوام سے ریلی میں شرکت کی اپیل کی
دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو ہونے والی انڈیا اتحاد کی میگا ریلی سے پہلے آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی قومی صدر نیہا بورا نے تین اہم مطالبات سامنے رکھے ہیں۔ ان میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ، ووٹر لسٹوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل کو مکمل طور پر روکنا اور 2023 کے قانون کی بحالی شامل ہے۔ نیہا بورا نے کہا کہ ان مطالبات کو لے کر جاری تحریک یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ہونے والی ریلی کے دوران اپنے عروج پر پہنچے گی۔
نیہا بورا کی عوام سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل
نیہا بورا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے اپنے تینوں مطالبات بیان کیے اور عوام سے انڈیا اتحاد کی میگا ریلی میں بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، ’’میں آپ سب سے اپیل کرتی ہوں کہ یکم نومبر کو رام لیلا میدان پہنچیں، تاکہ ہم اپنی جمہوریت کے تقدس اور ووٹ دینے کے اپنے حق کا تحفظ کر سکیں۔‘‘اپنی ویڈیو کے ساتھ پوسٹ کیے گئے پیغام میں بھی نیہا بورا نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور ایس آئی آر کے عمل کو روکنے کا مطالبہ دہرایا۔
دھرو راٹھی نے بھی ریلی میں شرکت کی اپیل کی
نیہا بورا کے علاوہ معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی نے بھی ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لوگوں سے یکم نومبر کی ریلی میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ اگلا احتجاج یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہوگا، جس کا اہتمام اس بار کانگریس کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ریلی کے لیے ضروری اجازت بھی حاصل کر لی گئی ہے، اس لیے لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ دھرو راٹھی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں ریلی میں پہنچیں، دوسروں کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دیں اور مل کر احتجاج کا حصہ بنیں۔ انہوں نے اسے جمہوریت کے تحفظ کی لڑائی قرار دیا۔ یکم نومبر کو ہونے والی اس ریلی میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی، الیکشن کمیشن کے کردار اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے جیسے معاملات اہم موضوعات رہنے کی توقع ہے۔







