آندھرا پردیش میں ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی انتخابات کل یعنی 5 نومبر2026 کو پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوں گے۔ ریاستی الیکشن کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ مراسو طوفان اور حالیہ بھاری بارشوں کے باوجود پولنگ مؤخر نہیں کی جائے گی۔ یہ اعلان آج ریاستی الیکشن کمشنر انیل چندر پونیتھا نے ضلع کلکٹروں اور سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے بعد کیا، جس میں میدانِ عمل کی صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور انتظامات کو آخری شکل دینے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
ریاستی الیکشن کمیشن کے مطابق ریاست بھر میں کل 31,460 پولنگ مراکز قائم کر دیے گئے ہیں جہاں تقریباً 2.61 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ انتخابی عمل کی انجام دہی کے لیے تقریباً 2.52 لاکھ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ ووٹوں کی گنتی کے لیے تقریباً 52 ہزار ملازمین کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں۔ کمیشن نے بتایا کہ پولنگ مراکز پر شفافیت اور نظم و ضبط یقینی بنانے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں اور مستقل ویڈیograpfi کے ذریعے نگرانی کی جائے گی اور پولیس فورس کو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
انیل چندر پونیتھا نے کہا کہ مراسو طوفان کے اثرات اور بارشوں کے سبب چند اضلاع میں انتظامی چیلنجز کا امکان تھا، اسی لیے کلکٹروں اور ایس پیز سے خطہ وار رپورٹس منگوائی گئیں۔ ان کے مطابق بیشتر کلکٹروں نے اطلاع دی کہ زیادہ تر اضلاع میں بارش تھم چکی ہے اور پولنگ کے انعقاد میں کوئی بڑی رکاوٹ متوقع نہیں، صرف ایک دو مقامات پر موسمی اثرات کے پیشِ نظر متبادل انتظامات رکھے گئے ہیں۔ کمشنر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ زمینی سطح پر حالات کی مسلسل نگرانی کریں، ضرورت پڑنے پر فوری فیصلے کریں اور تمام محکموں کے ساتھ قریبی ربط میں رہ کر پولنگ کو پرامن، شفاف اور سہل بنائیں۔
ریاستی الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ انتخابات کے التوا سے متعلق قیاس آرائیاں اور مہم بے بنیاد ثابت ہوئی ہیں، کیونکہ مجموعی طور پر ریاست بھر میں ماحول پولنگ کے لیے سازگار ہے۔ کمیشن نے کہا کہ انتظامیہ نے حساس اور نہایت حساس پولنگ مراکز کی نشاندہی کر کے اضافی سکیورٹی تعینات کر دی ہے، رسل و رسائل اور بجلی کے متبادل کاروائی رکھے گئے ہیں، اور جہاں ضرورت ہو وہاں عارضی شیڈز، روشنی اور ڈرنیج کا فوری انتظام کیا جا رہا ہے تاکہ بارش کے بعد کی مشکلات ووٹر کے راستے میں حائل نہ ہوں۔
اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں کل 9,821 ایم پی ٹی سی نشستیں ہیں جن میں سے 2,051 نشستیں پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہو چکی ہیں، جب کہ باقی 7,770 نشستوں پر کل پولنگ ہو گی۔ ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 18,843 امیدوار میدان میں ہیں۔ کمیشن نے بتایا کہ امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو ضابطۂ اخلاق کی پابندی پر زور دیا گیا ہے اور پولنگ کے دن تشہیری سرگرمیوں، ہجوم اکٹھا کرنے اور پولنگ مراکز کے قریب سیاسی اجتماعات پر پابندی کی ہدایات دہرا دی گئی ہیں۔
انیل چندر پونیتھا نے کہا کہ جہاں کہیں بھی بارش یا طوفانی جھکڑ کے اثرات ہوں گے وہاں پولنگ پارٹیوں کو وقتِ صبح کی اولین ساعتوں سے پہلے روانہ کیا جا رہا ہے، پیدل رسائی مشکل علاقوں کے لیے اضافی گاڑیاں، کشتیوں اور ضرورت پڑنے پر مخصوص آلات کا کاروائی کیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین، معمر شہریوں اور معذور ووٹرز کی آسانی کے لیے قطار بندی، رمپ اور مددگار عملہ فراہم کیا جائے گا تاکہ ووٹنگ کا عمل تیز اور ہموار رہے۔
ریاستی الیکشن کمیشن نے تصدیق کی کہ 5 نومبر کو ریاست بھر میں پولنگ ہوگی اور ووٹوں کی گنتی 7 نومبر کو متعین مراکز پر کی جائے گی، جس کے لیے اضافی روشنی، ریکارڈنگ اور سکیورٹی انتظامات پہلے ہی وضع کر دیے گئے ہیں۔ کمیشن نے ووٹرز سے اپیل کی کہ وہ اپنی شناختی دستاویز کے ساتھ مقررہ وقت پر پولنگ مراکز پہنچیں، قطار اور نظم کا خیال رکھیں اور کسی افواہ یا منفی اطلاعات پر کان نہ دھریں، کیونکہ انتخابی عمل کی شفافیت اور امن کے لیے تمام ضروری اقدامات بروئے کار لائے جا چکے ہیں۔






