Thursday, November 05, 2026 | 24 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • عرب جماعتوں کی آئنزکوٹ کو حمایت، اسرائیلی حکومت سازی اتحادمیں نیا موڑ

عرب جماعتوں کی آئنزکوٹ کو حمایت، اسرائیلی حکومت سازی اتحادمیں نیا موڑ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 05 Nov 2026

عرب جماعتوں کی آئنزکوٹ کو حمایت، اسرائیلی حکومت سازی اتحادمیں نیا موڑ
اسرائیل کی عرب سیاسی جماعتوں نے گزشتہ ہفتے ہوئے عام انتخابات میں ریکارڈ 19 نشستیں حاصل کرنے کے بعد اپوزیشن کے رہنما گاڈی آئنزکوٹ کے اتحاد کی حمایت کا اشارہ دے دیا ہے، جس سے وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یا ہو کے لیے ایک اور حکومت بنانے کے امکانات مزید کمزور پڑ گئے ہیں۔ یہ پیش رفت تب سامنے آئی ہے جب بدلاؤ(چینج ) کے نام سے معروف مرکزی یہودی حزبِ اختلافی اتحاد، جس میں 4 جماعتیں شامل ہیں، کنیسٹ میں اکثریت کے لیے درکار 61 نشستوں سے کم پر رکا ہوا ہے، اور سیاسی جمود یا دوبارہ انتخابات سے بچنے کے لیے اسے عرب نمائندہ جماعتوں کی پارلیمانی پشت پناہی اہم دکھائی دے رہی ہے۔
 
اعداد و شمار کے مطابق وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی قیادت میں قدامت پسند اور انتہاپسند یہودی جماعتوں کے اتحاد لیکوڈ بلاک نے 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں جیتی ہیں، جب کہ آئنزکوٹ کی یاشر پارٹی کی سربراہی میں حزبِ اختلافی بلاک کو 48 نشستیں ملی ہیں۔ دوسری جانب عرب قیادت والے اتحادوں، یعنی جوائنٹ لسٹ اور راعم، نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے؛ عرب ووٹرز کی شرکت تقریباً 80 فیصد تک دوگنی ہونے کے نتیجے میں راعم کے منصور عباس کی جماعت نے 8 اور یوسف جبارین کی سربراہی میں جوائنٹ لسٹ نے 11 نشستیں حاصل کیں۔
 
چینج (تبدیلی )بلاک پہلے ہی اکتوبر 7 کے حملوں سے جڑی سکیورٹی ناکامیوں اور نیتن یاہو کے جاری بدعنوانی مقدمے کا حوالہ دے کر ان کے ساتھ کسی بھی مشترکہ حکومت سے انکار کر چکا ہے۔ تاہم عرب جماعتوں کی حمایت لینا، چاہے اتحاد میں شامل کرکے یا باہر سے سہارے کے طور پر، آئنزکوٹ کو دائیں بازو کی جانب سے سخت ردعمل کے خطرے میں ڈال سکتا ہے، خصوصاً جب کچھ یہودی رہنما اور جماعتیں، سمیت نیتن یاہو، عرب مخالف بیان بازی سے ووٹروں کو لبھانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔
 
اسرائیل کی عرب اقلیت طویل عرصے سے سیاسی حاشیے پر رہی ہے اور اکتوبر 7 کے بعد اس عمل میں شدت آئی۔ کم از کم دو سابق فلسطینی ارکانِ کنیسٹ اور ایک موجودہ رکن کو غزہ میں اسرائیلی کاروائیوں اور غربِ اردن کے قبضے پر تنقیدی ریمارکس یا اقدامات کے باعث عارضی گرفتاریاں بھگتنی پڑیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اقتدار کی راہیں تلاش کرتے ہوئے فریقین کو اپنے ووٹروں سے کی گئی کچھ وعدہ خلافیاں اور سمجھوتے کرنا پڑ سکتے ہیں۔
 
نیتن یاہو اور لیکوڈ نے بغیر ثبوت کے الزام لگایا کہ غیر ملکی مدد سے عرب جماعتوں نے انتخابی دھاندلی کی۔ چند واقعات کی مثالیں دیتے ہوئے کہا گیا کہ پولنگ شروع ہونے سے پہلے 3 سیاسی کارکنوں کو مبینہ طور پر ووٹروں کی خریداری پر حراست میں لیا گیا جن کے روابط راعم سے جوڑے گئے، مگر جماعت نے اس سے لاتعلقی ظاہر کی۔ اتوار کو ایک عدالت نے ایک مشتبہ شخص کو رہا کردیا اور دوسرے کو نظر بندی میں رکھنے کا حکم دیا، جب کہ انتخابی حکام نے یقین دلایا کہ ووٹ کے عمل پر حرف نہیں آئے گا۔
 
مرکزی انتخابی کمیٹی کے سربراہ نوام سولبرگ نے کہا کہ اگر شکوک ثابت بھی ہو جائیں تو مجموعی نتائج کی ساکھ متاثر نہیں ہوگی۔ اسی روز الیکشن کمیشنر، اٹارنی جنرل اور شن بیت کے سربراہ کی مشترکہ ملاقات کی ویڈیوز جاری ہوئیں، جسے ادارہ جاتی تعاون کا اشارہ قرار دیا جارہا ہے۔