وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر کے تعلیمی نظام میں روایتی رٹّے اور محض یاد داشت پر انحصار سے ہٹ کر ایسی جہت درکار ہے جو خود مختار سوچ، اخلاقی رویّوں اور متوازن شخصیت سازی کو فروغ دے، کیونکہ صرف تعلیمی امتیاز ہی تعلیم کا مقصد متعین نہیں کرتا۔ وزیراعلیٰ نے ان خیالات کا اظہار گورنمنٹ کنونشن سینٹر میں ڈایوسیس آف جموں۔سرینگر ایجوکیشن سوسائٹی کے ڈی جے ایس ای ایس ایوارڈز 2026 کی تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کےدوران کیا۔
عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ تعلیم وہ بنیاد ہے جس پر ہماری آئندہ شناخت استوار ہوتی ہے، مگر یہ سب کچھ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف امتحانی نتائج سے آگے دیکھنا ہوگا؛ کالجوں میں داخلے کے لیے نمبروں کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن اداروں کی اولین ذمہ داری ایسے ذمہ دار شہری تیار کرنا ہے جو سوچنے اور عمل کرنے میں خود مختار ہوں۔۔۔۔
نئی نسل کے نئے چیلنجز
جموں و کشمیر کے سی ایم نے نشاندہی کی کہ برسوں سے ہمارا تعلیمی ڈھانچہ تکرار اور اس اہلیت کے گرد گھومتا رہا ہے کہ طالب علم وہی کچھ دہرا دیں جو انہیں پڑھایا گیا، جس سے آزادانہ فکر کے لیے گنجائش کم رہ گئی۔ ان کے الفاظ میں، بچوں کو خود اپنے لیے سوچنا اور خود اپنے لیے عمل کرنا سیکھنا ہوگا، اور ساتھ ہی یہ تمیز بھی کہ درست کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نئی نسل ایسے دور کے چیلنجز سے دوچار ہے جنہیں سابقہ نسلوں نے محسوس نہیں کیا تھا، خصوصاً اس عہد میں جب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا اور تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی غلبہ رکھتی ہے۔
انہوں نے اپنے بچپن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ٹیلی ویژن پر چند تفریحی آپشن دستیاب تھے تو توجہ مرکوز رکھنا آسان تھا، مگر آج سیکڑوں چینلز اور یوٹیوب، انسٹا گرام اور اسنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارمز کے درمیان طلبہ کی توجہ برقرار رکھنا زیادہ دشوار ہو گیا ہے۔۔۔
ٹیکنا لوجی کا استعمال صرف سیکھنےکےلئے کریں
عمر عبداللہ نے تعلیم کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے ابھرتے ہوئے اثرات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ہدف یہ ہونا چاہیے کہ طلبہ اس ٹیکنالوجی کو اخلاقی طور پر اور بطور سیکھنے کے آلے استعمال کریں، نہ کہ محض تعلیمی کام سے بچ نکلنے کے ذریعے کے طور پر۔ ان کا سوال تھا کہ ہم بچوں کو مصنوعی ذہانت کا درست اور اخلاقی استعمال کیسے سکھائیں تاکہ وہ اس سے سیکھیں، اس سے نقل نہ کریں؟ انہوں نے زور دیا کہ گھریلو اسائنمنٹس اور مضامین کو مصنوعی ذہانت کے ٹولز کے سپرد نہ کیا جائے، کیونکہ ٹیکنالوجی کی پیش رفت ایسی نہ ہو کہ طلبہ کی آزادانہ سوچ اور خود سیکھنے کی صلاحیتیں کمزور پڑ جائیں۔
مطالعے کی کم ہوتی عادت پر تشویش
وزیراعلیٰ نے نوجوانوں میں مطالعے کی کم ہوتی عادت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نصابی دائرے سے باہر کتابوں سے شغف پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق، مطالعہ ذہنی بالیدگی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اس لیے طلبہ میں پڑھنے کی مستقل عادت پروان چڑھائی جائے۔ انہوں نے ڈایوسیس اور اس کے تعلیمی اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے بتایا کہ یہ سوسائٹی جموں و کشمیر اور لداخ میں 24 اسکول چلا رہی ہے، جہاں ہر سال تقریباً 28,000 طلبہ تعلیم پاتے ہیں اور قریب 1,600 افراد کو روزگار میسر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں نے سیول سروسز کے افسران، پولیس افسران، ڈاکٹروں اور کاروباری قائدین کو جنم دیا، مگر سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ یہ ادارے اچھے انسان تیار کرتے رہے ہیں۔
طلبا سوال کرنے سیکھیں
انہوں نے طلبہ کو سوال کرنے کی ہمت پیدا کرنے کی نصیحت کی اور کہا کہ بامعلومات اور جواب دہ معاشرے کے لیے سوال اٹھانا ناگزیر ہے۔






