آندھرا پردیش کے ضلع پرکاشم میں کتہ پٹنم ساحل پر جمعرات کی صبح ایک ماہی گیر کشتی لہروں کے ساتھ ساحل پر آ لگی جس کے اندر سے 4 لاشیں برآمد ہوئیں۔ مقامی ماہی گیروں نے سب سے پہلے اس کشتی کو دیکھا اور کشتی کے کیبن کے اندر انسانوں کی موجودگی کا اندازہ ہوتے ہی فوراً پولیس اور میرین عملے کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی کتہ پٹنم پولیس اسٹیشن کے اہلکار اور میرین پولیس کے افسران موقع پر پہنچے، کشتی کا معائنہ کیا اور ساحل کے گرد حفاظتی حصار قائم کر کے ثبوت محفوظ کیے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق علاقے میں حالیہ دنوں میں سمندر کی طغیانی اور اونچی لہروں کی بڑی وجہ بحری طوفان مُراسو ہے، اور حکام کو شبہ ہے کہ اسی کے طاقتور دباؤ والی لہروں کے نتیجے میں یہ کشتی الٹ کر بے قابو ہوئی اور بہتے بہتے یہاں تک آن پہنچی۔
عینی شاہدین کے مطابق کشتی کے حجم اور اس پر نظر آنے والے سامان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں تقریباً 15 ماہی گیر سوار رہے ہوں گے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کشتی کا ڈیزائن اور رنگ و روغن پڑوسی ریاست تمل ناڈو میں عام ملنے والی ماہی گیر کشتیوں سے مشابہ ہے، اس لیے مضبوط امکان ہے کہ یہ کشتی وہیں سے بہہ کر آندھرا کے ساحل تک پہنچی ہو۔ تاہم پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ جب تک متوفیان کی شناخت اور رجسٹریشن تفصیل سامنے نہیں آتی، حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
کتہ پٹنم پولیس نے لاشوں کو فوری طور پر ضابطے کی کاروائی کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے آر آئی ایم ایس اسپتال روانہ کیا، جہاں فارنزک ماہرین وجہِ موت، وقتِ ہلاکت اور کسی ممکنہ زہریلے مادّے یا چوٹ کے شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ لاشوں کی شناخت کے لیے فنگر پرنٹس، ڈی این اے نمونے، اور شناختی نشانات جیسے ٹیٹو یا مخصوص زخموں کی تصویری دستاویزات تیار کی جا رہی ہیں، تاکہ یا تو مقامی ساحلی بستیوں یا پھر تمل ناڈو کے ممکنہ لاپتہ افراد کے ریکارڈ سے ان کا ملاپ کرایا جا سکے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق میرین پولیس اور کوسٹ گارڈ کی مشترکہ ٹیمیں، جن کی معاونت میں مقامی ماہی گیروں کی کشتیاں بھی شامل ہیں، سمندر میں گشت اور تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سرچ آپریشن میں تیز رفتار کرافٹس، لمبی دوربینیں، جی پی ایس ٹریکنگ اور بحری نقشہ بندی کے طریقہ کار استعمال ہو رہے ہیں تاکہ ممکنہ ملبہ، لائف جیکٹس یا بہنے والی اشیا کے ذریعے واقعاتی خطِ سفر کا سراغ لگایا جا سکے۔ لہروں اور ہواؤں کی سمت کے سائنسی ماڈلز بھی مدنظر رکھے جا رہے ہیں، جس سے یہ اندازہ لگانے میں مدد مل رہی ہے کہ کشتی کہاں الٹی اور کتنی دور تک ڈولتی رہی۔
پولیس نے نامعلوم افراد کی ہلاکت کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور واقعے کی فوجداری و تکنیکی دونوں نوعیتوں سے تفتیش جاری ہے۔ تفتیش کار کشتی کے انجن، مواصلاتی آلات، سیٹ نمبرنگ، اور ممکنہ رجسٹریشن پلیٹس کا معائنہ کر رہے ہیں۔ اگر کوئی سیٹلائٹ فون، جی پی ایس ڈیوائس یا محفوظ شدہ ڈِجیٹل لاگ ملتا ہے تو اس کے ذریعے آخری رابطوں اور سفر کی سمت کا پتا چلایا جائے گا۔ ابتدائی معائنے میں کشتی کے بدن پر ٹکراؤ کے نشانات اور پانی بھرنے کے ثبوت ملے ہیں، تاہم دھماکے یا آگ کی کوئی علامت سامنے نہیں آئی۔
مقامی انتظامیہ نے ساحلی بستیوں میں اعلانات کے ذریعے لاپتہ افراد کی اطلاعات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔






