Monday, September 21, 2026 | 07 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • یوپی انتخابات سے پہلے اویسی کا ’مشن یوپی‘ تیز، اتحاد پر 2 اکتوبر تک فیصلہ

یوپی انتخابات سے پہلے اویسی کا ’مشن یوپی‘ تیز، اتحاد پر 2 اکتوبر تک فیصلہ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 21 Sept 2026

یوپی انتخابات سے پہلے اویسی کا ’مشن یوپی‘ تیز، اتحاد پر 2 اکتوبر تک فیصلہ
اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ اسی سلسلے میں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے اتر پردیش میں اپنی پارٹی کی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ اویسی نے ریاست میں ممکنہ سیاسی اتحاد کے حوالے سے بھی اپنا موقف واضح کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی پارٹی دیگر ہم خیال جماعتوں کے ساتھ مل کر انتخاب لڑنے کے امکانات پر غور کر رہی ہے۔ 
 
میڈیا رپورٹ کے مطابق اے آئی ایم آئی ایم اتحاد سے متعلق فیصلہ 2 اکتوبر تک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اپنے ’مشن یوپی‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم ریاست میں موجود ہے اور پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ بھی موجود ہے۔ انہوں نے زمینی سطح پر پارٹی کی سرگرمیوں اور عوام سے براہ راست رابطے پر زور دیا۔ اویسی نے یہ بھی کہا کہ ریاست میں مختلف برادریوں کی اپنی سیاسی قیادت ہے، جبکہ ان کے مطابق مسلم برادری کو اسمبلی میں مناسب سیاسی نمائندگی نہیں مل رہی۔
 
سماج وادی پارٹی کے ساتھ ممکنہ اتحاد سے متعلق سوال پر اویسی نے کہا کہ وہ پہلے بھی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر انتخاب لڑنے کی تجویز دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی جماعتیں مل کر مقابلہ کریں تو بی جے پی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنائی جا سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں اویسی نے یوپی میں ہم خیال جماعتوں کے ساتھ اتحاد کی کھلی پیشکش بھی کی ہے۔ بہار کا حوالہ دیتے ہوئے اویسی نے کہا کہ وہاں بھی ان کی پارٹی نے اتحاد کے لیے بات چیت کی تھی اور چھ نشستوں کی درخواست دی تھی، لیکن انہیں ان کے مطابق مثبت جواب نہیں ملا۔ انہوں نے اس تجربے کو یوپی کی سیاسی صورتحال سے جوڑتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
 
اویسی نے یوپی میں مسلمانوں سے متعلق مختلف مسائل کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے سہارنپور میں مسجد سے متعلق کارروائی، قبرستان کے معاملے اور مبینہ ہجومی تشدد جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق ایک مخصوص برادری سے متعلق مسائل کو سیاسی سطح پر اٹھانا ضروری ہے۔اویسی نے ریاست میں قانون و انتظام اور اقلیتوں کی نمائندگی کے سوالات بھی اٹھائے۔ تاہم ان کی جانب سے بیان کیے گئے مختلف الزامات اور سیاسی دعوے ان کا مؤقف ہیں، جن کی قانونی یا انتظامی سطح پر حتمی حیثیت متعلقہ تحقیقات اور کارروائی سے واضح ہوگی۔
 
اویسی نے سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی اور ووٹر گروپوں سے متعلق سوالات کے جواب میں کہا کہ مختلف جماعتیں انتخابی سیاست میں مختلف سماجی طبقات کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ’آئی لو محمد‘ کے نعرے کے بارے میں انہوں نے اسے اپنے مذہبی عقیدے سے جوڑا۔ اویسی نے خواتین ووٹروں کی حمایت کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ان کی پارٹی انتخابات میں حصہ لے گی اور اسے عوام کی حمایت درکار ہوگی۔ سیاسی اتحاد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں صورتحال مزید واضح ہوگی۔ اے آئی ایم آئی ایم پہلے ہی یوپی میں اپنی تنظیم مضبوط کرنے اور مختلف علاقوں میں عوامی رابطہ بڑھانے کا عمل شروع کر چکی ہے۔