آسام حکومت نے ریاستی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن پر نظرثانی کے لیے آٹھویں ریاستی پے کمیشن کی تشکیل کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کے اعلان کے مطابق، کمیشن اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرے گا، جس کے بعد ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر مراعات میں ممکنہ تبدیلیوں کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس پیش رفت کے بعد آسام آٹھویں ریاستی پے کمیشن تشکیل دینے والی ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب مرکزی حکومت کے آٹھویں پے کمیشن کی سفارشات اور رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے 11 اکتوبر کو گوہاٹی میں منعقدہ ایک سرکاری تقریب کی ویڈیو اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی۔ انہوں نے کہا کہ آسام آٹھواں ریاستی پے کمیشن تشکیل دینے والی ملک کی پہلی ریاست بنے گی۔ ان کے مطابق، یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود اور بہتر حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ ریاستی پے کمیشن نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ کمیشن مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گا۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر ریاستی حکومت ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر مراعات میں تبدیلیوں کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔
آسام حکومت نے رواں سال جنوری میں آٹھویں ریاستی پے کمیشن تشکیل دیا تھا۔ سابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری سبھاش داس کو اس کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کمیشن کو اپنی سفارشات تیار کرکے حکومت کے سامنے پیش کرنے کے لیے 18 ماہ کی مدت دی گئی ہے۔ کمیشن سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ، پنشن، الاؤنسز اور ملازمت سے متعلق دیگر شرائط کا جائزہ لے گا۔ اس کا مقصد ان معاملات پر سفارشات تیار کرنا ہے تاکہ حکومت آئندہ تنخواہوں اور مراعات کے نظام میں ضروری تبدیلیوں پر غور کر سکے۔
پے کمیشن کی تشکیل کا مطلب یہ نہیں کہ ملازمین کی تنخواہوں میں فوری طور پر اضافہ ہو جائے گا۔ پہلے کمیشن اپنی سفارشات تیار کرکے حکومت کو پیش کرے گا۔ اس کے بعد حکومت ان سفارشات کا جائزہ لے کر ان پر عمل درآمد کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔ لہٰذا آسام کے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں اضافے کی حتمی تفصیلات کے لیے کمیشن کی رپورٹ اور ریاستی حکومت کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا۔ فی الحال تنخواہوں میں اضافے کی شرح اور نئی تنخواہوں کے نفاذ کی تاریخ سے متعلق حتمی اعلان سامنے آنا باقی ہے۔






