بھارت کے سابق کپتان اور معروف کرکٹر سنیل گواسکر نے رنجی ٹرافی میں مقابلے کے معیار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹورنامنٹ میں پلیٹ گروپ کی شمولیت سے دونوں ڈویژنوں کے درمیان فرق بڑھ گیا ہے۔ ان کے مطابق، تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ٹورنامنٹ میں شامل کرنے کے فیصلے کے بعد مجموعی معیار متاثر ہوا ہے۔ رنجی ٹرافی بھارت کا اہم فرسٹ کلاس کرکٹ ٹورنامنٹ ہے، جس کا آغاز 1934-35 کے سیزن میں ہوا تھا۔ ابتدائی دور میں ٹیموں کو مختلف زونز میں تقسیم کیا جاتا تھا، لیکن 2002-03 کے سیزن کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے زونل نظام ختم کرکے دو سطحی فارمیٹ متعارف کرایا۔ اس کے تحت ٹیموں کو ایلیٹ اور پلیٹ گروپس میں تقسیم کیا گیا۔
ایلیٹ اور پلیٹ گروپ کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟
رنجی ٹرافی کے موجودہ فارمیٹ میں ایلیٹ گروپ کی 32 ٹیموں کو آٹھ آٹھ ٹیموں کے چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سیزن کے اختتام پر ایلیٹ گروپس کی کمزور کارکردگی دکھانے والی ٹیموں کو پلیٹ گروپ میں بھیجا جاتا ہے، جبکہ پلیٹ گروپ کے فائنل میں پہنچنے والی دو ٹیموں کو اگلے سیزن میں ایلیٹ گروپ میں جگہ ملتی ہے۔ اس نظام کا مقصد ٹیموں کے درمیان مقابلے کو برقرار رکھنا اور اچھی کارکردگی دکھانے والی ٹیموں کو آگے بڑھنے کا موقع دینا ہے۔ تاہم، گواسکر کا ماننا ہے کہ اس فارمیٹ کے باعث دونوں گروپس کے معیار میں نمایاں فرق سامنے آ رہا ہے۔
سنیل گواسکر کے مطابق، پلیٹ ڈویژن میں بیٹنگ اور بولنگ کے ریکارڈ بن رہے ہیں اور کھلاڑی بڑی انفرادی کارکردگیاں دکھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب لودھا کمیٹی نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو رنجی ٹرافی میں شامل کرنے کی سفارش کی، تو اس فیصلے کا اثر ٹورنامنٹ کے مجموعی معیار پر پڑا۔ گواسکر نے خاص طور پر ان ریاستوں میں کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کی کمی کی جانب توجہ دلائی، جہاں مضبوط مقامی ٹیم تیار کرنا ایک چیلنج ہے۔ ان کے مطابق، بعض ٹیمیں اپنے اسکواڈ کو مضبوط بنانے کے لیے دوسری ریاستوں کے کھلاڑیوں پر انحصار کرتی ہیں۔ 2026-27 کے سیزن کے لیے پلیٹ گروپ میں میگھالیہ، میزورم، اروناچل پردیش، منی پور، ناگالینڈ اور سکم شامل ہیں۔
گواسکر نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ممبئی کے چن مے سوتار اور راجستھان کے مینندر سنگھ میزورم کی جانب سے کھیل رہے ہیں۔ ان کے مطابق، بعض کھلاڑی اپنی آبائی ٹیموں میں جگہ نہ ملنے کے بعد دوسری ریاستوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ گواسکر کا کہنا ہے کہ جب ایسے کھلاڑی دوسری ٹیموں میں شامل ہونے کے باوجود ایلیٹ گروپ کی ٹیموں کے خلاف نمایاں کارکردگی نہیں دکھا پاتے، تو دونوں ڈویژنوں کے درمیان فرق مزید واضح ہو جاتا ہے۔ ان کے تبصرے سے رنجی ٹرافی کے موجودہ ڈھانچے، ریاستی کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے اور تمام ٹیموں کو یکساں مسابقتی مواقع فراہم کرنے کے طریقۂ کار پر بحث ایک بار پھر سامنے آ گئی ہے۔






