رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے پیر کے روز معاشیات کے شعبے میں 2026 کا نوبیل انعام امریکی ماہرینِ معاشیات رابرٹ ای ہال اور مائیکل ووڈفورڈ کو دینے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں ماہرین کو ایسے معاشی ماڈلز تیار کرنے پر یہ اعزاز دیا گیا ہے جنہوں نے معاشی ترقی اور کساد بازاری کے ادوار میں معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے پالیسی سازوں کی صلاحیت میں نمایاں بہتری پیدا کی۔اکیڈمی کے مطابق، دونوں ماہرین کی تحقیق نے مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کے لیے مضبوط نظریاتی بنیاد فراہم کی ہے، جس کی مدد سے حکومتیں اور مرکزی بینک بروقت اقدامات کے ذریعے معاشی اتار چڑھاؤ کو بہتر انداز میں سنبھال سکتے ہیں۔
نوبیل کمیٹی کے مطابق، اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے رابرٹ ای ہال اور کولمبیا یونیورسٹی کے مائیکل ووڈفورڈ نے معاشی ماڈلز کو خرد معاشیات (مائیکرو اکنامکس) کی بنیادوں پر ازسرنو تشکیل دیا۔ ان کی تحقیق میں اس بات پر توجہ دی گئی کہ گھرانے اور کاروباری ادارے کس طرح فیصلے کرتے ہیں اور ان کے اجتماعی فیصلے وسیع تر معیشت پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔
دونوں ماہرین کی تحقیق اس دور میں سامنے آئی جب 1970 کی دہائی میں تیل کے بحرانوں کے بعد روایتی کینزی معاشی ماڈلز پر تنقید کی جا رہی تھی۔ اس دوران کئی ترقی یافتہ معیشتوں کو بیک وقت بلند افراطِ زر، سست معاشی ترقی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔نوبیل کمیٹی نے کہا کہ دونوں ماہرین نے یہ واضح کیا کہ صارفین اور کاروباری اداروں کے مستقبل سے متعلق توقعات کو شامل کرکے معاشی ماڈلز کو نئے سرے سے تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اس سے معیشت کو مستحکم رکھنے والی پالیسیوں پر اعتماد بحال کرنے میں مدد ملی۔
ان کی تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ گھرانے اور کاروباری ادارے اخراجات، بچت، سرمایہ کاری اور قیمتوں کے تعین سے متعلق فیصلے کرتے وقت مستقبل کے معاشی حالات کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ اس طرح حکومتوں اور مرکزی بینکوں کی جانب سے دیے جانے والے پالیسی اشارے لوگوں کی توقعات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور معاشی سرگرمیوں کو درست سمت میں لے جانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اکیڈمی کے مطابق، ہال اور ووڈفورڈ کے تیار کردہ ماڈلز دنیا بھر کے مرکزی بینکوں اور حکومتوں میں بڑے پیمانے پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ معاشی مندی اور بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے میں بھی یہ ماڈلز کارآمد ثابت ہوئے ہیں۔معاشیات کے نوبیل انعام کی کمیٹی کے سربراہ جان ہاسلر نے کہا کہ دونوں انعام یافتگان کے کام نے ایسے ماڈلز کے لیے مستحکم نظریاتی بنیاد فراہم کی ہے جو آج دنیا بھر کے مرکزی بینک اور حکومتیں استعمال کر رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان ماڈلز نے پالیسی سازوں کی توانائی کے بحرانوں اور گھریلو صارفین کے اخراجات میں اچانک تبدیلیوں جیسے حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنایا ہے۔
رابرٹ ای ہال اور مائیکل ووڈفورڈ کا تعارف
رابرٹ ای ہال 1943 میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پالو آلٹو میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1967 میں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔
مائیکل ووڈفورڈ 1955 میں امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر چی کوپی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1983 میں ایم آئی ٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔
معاشیات کے اس انعام کے تحت مجموعی طور پر 12 ملین سویڈش کرونا کی رقم دی جاتی ہے، جو دونوں انعام یافتگان میں مساوی طور پر تقسیم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں👇:نوبیل 2026 انعام: فرانسیسی سائنسدان ہنری کاگن اور جاپانی سائنسدان کینزو سوی کے نام
یہ بھی پڑھیں👇:فزکس میں 2026 کا نوبیل انعام فرانسس ہالزن کو دیا گیا
یہ بھی پڑھیں👇:دماغی رازوں پر تحقیق کرنے والے تین سائنسدانوں کے نام،طب کا نوبیل انعام
یہ بھی پڑھیں👇:نوبیل انعام برائے ادب 2026 ۔کینیڈین ادیبہ این کارسن کے نام






