Sunday, November 01, 2026 | 20 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • اعظم خان کو جیل سے باہر آتے ہی ای ڈی نےحراست میں لیا، کس معاملے میں کی گئی کاروائی؟

اعظم خان کو جیل سے باہر آتے ہی ای ڈی نےحراست میں لیا، کس معاملے میں کی گئی کاروائی؟

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 31 Oct 2026

اعظم خان کو جیل سے باہر آتے ہی ای ڈی نےحراست میں لیا، کس معاملے میں کی گئی کاروائی؟
سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر،اورسابق کابینی وزیر،اعظم خان کو رام پور جیل سے رہا ہوتے ہی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے حراست میں لے لیا۔ اعظم خان اپنے بیٹے عبداللہ اعظم کے ساتھ جیل سے نکل رہے تھے جب ای ڈی کی ٹیم نے انہیں حراست میں لے لیا۔ جمعرات کو الہ آباد ہائی کورٹ نے دو پین کارڈ کیس میں اعظم خان کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔
 
ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد اعظم خان اور عبداللہ نے ایم پی-ایم ایل اے سیشن کورٹ اور مجسٹریٹ کورٹ میں الگ الگ مقدمات میں ضمانتی مچلکے داخل کئے۔ عدالت نے پولیس اور ریونیو انتظامیہ کو ان کی تصدیق کا حکم دیا۔ ابتدائی طور پر دونوں کی جمعہ کو رہائی متوقع تھی۔ ایم پی ایم ایل اے سیشن کورٹ نے اعظم خان کے خلاف زیر التوا پانچ مقدمات میں ریلیز بانڈ جاری کیے تھے۔
 
 لکھنؤ زون کے ایک  افسر نے تصدیق کی کہ ای ڈی نے قانونی کاروائی کی تکمیل کے بعد اعظم خان کی باقاعدہ گرفتاری اور انہیں غازی آباد میں انسداد منی لانڈرنگ قانون کی خصوصی عدالت کے روبرو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ان پر منی لانڈرنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تفتیش پہلے ہی تیز ہو چکی ہے۔
 
اعظم خان کو ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد ان کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے استقبال کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ جمعہ کو ان کی رہائی کے التوا نے ان کے حامیوں کو مایوس کیا تھا تاہم ہفتے کو جیل سے رہا ہونے کے بعد فضا ایک بار پھر خوشی سے بھر گئی۔ تاہم ای ڈی کی گرفتاری کے بعد یہ جشن مایوسی میں بدل گیا۔جیل سے رہائی کے بعد اعظم خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "کہنے کو کیا رہ گیا ہے، کیا کہوں؟ ایسا لگتا ہے جیسے قانون ختم کر دیا گیا ہو، کیا یہ مسلمان ہونے کی سزا ہے؟"
 
ای ڈی کے مطابق معاملہ مولا نا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور دیگر متعلقہ افراد سے جڑا ہے، جس کے تحت رامپور میں قائم محمد علی جوہر یونیورسٹی کے اثاثوں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ادارے نے بدھ کے روز یونیورسٹی کی زمین اور عمارتوں کو عارضی طور پر منجمد یا ضبطگی کی کاروائی کے تحت منسلک کیا اور ان کا موجودہ مارکیٹ ویلیو تقریباً 1,170 کروڑ روپئےبتائی۔ یہ اثاثے جوہر نگر گاؤں کی حدود میں واقع ہیں اور اس یونیورسٹی کی ملکیت مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کے پاس ہے، جسے اعظم خان نے قائم کیا اور وہی اس کے سرپرستِ اعلیٰ ہیں۔
 
تحقیقات کے مرکزی نکتے کے مطابق ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ بعض سرکاری فنڈز، تعمیراتی سامان اور عوامی کاموں کے ٹھیکے انجام دینے والے کنٹریکٹروں کی جانب سے ملنے والی چند رقمیں مبینہ طور پر یونیورسٹی کے کیمپس کی تعمیر میں لگائی گئیں۔ لکھنؤ زونل دفتر کے بیان میں کہا گیا کہ انسداد منی لانڈرنگ قانون، یعنی پی ایم ایل اے، کے تحت کی جانے والی تفتیش میں تقریباً 426.46 کروڑروپئے کو مبینہ ناجائز ذرائع سے حاصل اثاثہ تصور کیا گیا ہے۔ ادارے نے بتایا کہ کیمپس کی مجموعی لاگت کے تخمینے کا جائزہ لے کر اور اسے ان اخراجات سے مقابل کر کے جنہیں جائز ذرائع سے ثابت شدہ سمجھا گیا، منسلکہ اثاثوں کی قدر طے کی گئی۔
 
جمعہ کی کاروائی میں ای ڈی کے افسر نے بتایا کہ ٹیم نے جیل سے رہائی کے بعد کے چند ہی منٹوں میں اعظم خان کو حفاظتی حراست میں لے لیا تاکہ ضابطے کی کاروائی، تاکہ جیسے میڈیکل معائنہ، گرفتاری کی دستاویزات کی تیاری اور بعد ازاں عدالت میں پیشی، بلا تاخیر مکمل کی جا سکے۔ افسر کے مطابق حراست کا مقصد تفتیش میں تعاون یقینی بنانا اور ثبوتوں کے ممکنہ ضیاع یا اثرانداز ہونے کے خدشات کو کم کرنا ہے۔ اس موقع پر مقامی پولیس کی مدد بھی حاصل کی گئی تاکہ امن و امان برقرار رہے اور ہجوم اکٹھا نہ ہونے پائے۔
 
جمعہ کی دوپہر رامپور جیل کے باہر یہ کاروائی ہوئی، جس کے فوراً بعد اعظم خان کو ای ڈی کی ٹیم لے کر روانہ ہو گئی۔ اگلا مرحلہ غازی آباد کی پی ایم ایل اے عدالت میں پیشی ہے، جہاں ان کی نظربندی یا ریمانڈ سے متعلق فیصلہ متوقع ہے۔ ای ڈی نے واضح کیا کہ گرفتاری کا تعلق اسی منی لانڈرنگ کیس سے ہے جس میں یونیورسٹی کے اثاثے منسلک کیے گئے ہیں۔
 
واضح رہے کہ اعظم خان اتر پردیش کی سیاست میں ایک بااثر نام رہے ہیں اور سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر کی حیثیت سے متعدد بار ریاستی کابینہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ محمد علی جوہر یونیورسٹی ان کی نمایاں پہل قرار دی جاتی ہے، جسے تعلیمی ترقی کے ایک بڑے منصوبے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔