حیدرآباد میں نوجوان لڑکیوں کی مجبوریوں اور نادانی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غیرقانونی طور پر ان کےبیضہ (انڈے) جمع کرنے اور فروخت کرنے والے ایک نیٹ ورک کو پولیس نے بے نقاب کر دیا ہے۔ مَلکاجگیری کی اسپیشل آپریشن ٹیم کے ساتھ بیگم پیٹ اور سرور نگر پولیس نے مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے چھاپے مارے، اس کاروائی میں پولیس ٹیم نے مرکزی ملزم درگا پرساد سمیت کئی افراد کو حراست میں لے لیا ۔ یہ کاروائیاں بیگم پیٹ کے پرکاش نگر میں ایک ویمنز ہاسٹل کی وجہ سے میں چلائے جا رہے مرکز اور سرور نگر کے دائرہ اختیار میں قائم غیرقانونی یونٹس پر کی گئیں، جہاں بظاہر رہائشی سہولت کے نام پر درپردہ بیضہ جمع کرنے کے غیر مجاز عمل کو منظم انداز میں چلایا جا رہا تھا۔ پولیس کے ساتھ فرٹیلیٹی سینٹر سے مبینہ تعلق اور مردوں سے سپرم جمع کرنے کی تحقیقات کر رہی ہے
ایک خاتو ن کو 30 ہرزار روپئے معاوضہ
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ یہ گروہ مختلف دیہی علاقوں کے ساتھ ساتھ بہار، اتر پردیش اور اڈیشہ جیسے دیگر ریاستوں سے روزگار یا چھوٹی موٹی ملازمت کی تلاش میں شہر آنے والی نوجوان خواتین کو خصوصی طور پر نشانہ بناتا تھا۔ پولیس کے مطابق مافیا پہلے ایسی لڑکیوں کو سہانے خواب دکھا کر اپنے جال میں پھنساتا، پھر انہیں بیضہ دینے پر آمادہ کرنے کے لیے رقم کی لالچ دیتا۔ ہر لڑکی کو تقریباً 30,000 روپے ادا کیے جاتے، جب کہ پس منظر میں ان کےبیضہ کو لاکھوں میں بیچنے کی تیاری ہوتی۔ اس پورے عمل میں صحت کے تقاضوں اور طبی رہنما اصولوں کو نظر انداز کیا گیا اور مبینہ طور پر ہارمونل انجیکشنز غیرقانونی طریقے سے اور بار بار لگائے گئے، جن سے لڑکیوں کی جسمانی اور تولیدی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
مختلف ریاستوں کی نوجوان لڑکیاں اور خواتین
چھاپوں کے دوران پولیس نے تقریباً 30 نوجوان خواتین کو تحویل میں لے کر محفوظ مقام پر منتقل کیا اور ان کی طبی جانچ کرانے کے انتظامات کیے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق جمع کیے گئے بیضہ نہ صرف حیدرآباد کے بڑے کارپوریٹ آئی وی ایف مراکز بلکہ دہلی اور ممبئی جیسے میٹرو شہروں کی فرٹیلز کلینکس تک بھاری قیمت پر سپلائی کیے جاتے تھے۔ اس سلسلے میں کچھ ٹرانزٹ پوائنٹس، درمیانی کارندوں اور کمرشل خاکہ بندی کے بارے میں پولیس کو اہم سراغ ملے ہیں، جن کی بنیاد پر مزید چھاپوں اور گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مرکزی ملز سے پوچھ تاچھ جاری
مرکزی ملزم درگا پرساد سے تفتیش جاری ہے۔ تفتیش کار اس بات کی تہہ تک جانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس غیرقانونی نیٹ ورک کے پیچھے اصل منصوبہ ساز کون ہیں، مالیات کی ترسیل کیسے ہوتی تھی، اور کن معروف اسپتالوں یا فر ٹیلزرسینٹرسے براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس رَیکٹ کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا۔ پولیس حکام کے مطابق شواہد میں جبری رَوزگار کے لالچ، شناختی دستاویزات کے غلط استعمال اور میڈیکل اسکریننگ کے جعلی سرٹیفکیٹس کے خدشات شامل ہیں۔
انسانی انڈوں کو عطیہ غیر قانونی
محکمہ صحت اور ضابطہ کار اداروں نے اشارہ دیا ہے کہ ہارمونز کی غیرقانونی خرید و فروخت اور غیر مجاز کلینکل طریقۂ کار کے خلاف سخت قدم اٹھائے جائیں گے۔ حکام نے واضح کیا کہ انسانی انڈوں کا عطیہ یا فروخت سخت قوانین اور اخلاقی رہنما اصولوں کے تحت طبی ماہرین کی نگرانی میں ہی ممکن ہے، ورنہ اس سے نہ صرف عطیہ دہندگان کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ آئی وی ایف کے پورے عمل کی شفافیت اور مریضوں کے حقوق بھی مجروح ہوتے ہیں۔
بیگم پیٹ ایس ایچ او کا بیان
بیگم پیٹ اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) پی سیدولو نے کہا کہ طبی نتائج سے یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ آیا خواتین نے انڈے جمع کرنے سے متعلق طریقہ کار سے گزرا تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ ابھی تک طبی طور پر کچھ بھی ثابت نہیں ہوا ہے اور ڈاکٹروں کو ان نتائج کی تصدیق کرنی ہوگی۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اینڈ میڈیکل آفیسر (DHMO) کی رپورٹس کا بھی انتظار ہے۔اب تک کوئی IVF اسکین نہیں کیا گیا ہے، اور یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا خواتین میں بیضہ کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے یا نہیں۔ طبی معائنے سے یہ معلوم کرنے کی توقع کی جاتی ہے کہ آیا ایسا کوئی طریقہ کار ہوا ہے۔
پولیس نے شہریوں خصوصاً نوجوان خواتین سے اپیل کی ہے کہ روزگار یا فوری رقم کے لالچ میں صحت کے ساتھ سمجھوتہ نہ کریں اور کسی بھی مشکوک طبی عمل یا پیشکش کی صورت میں فوراً متعلقہ تھانے یا ہیلپ لائن کو اطلاع دیں۔






