Saturday, October 31, 2026 | 19 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • سی ای سی کے خلاف انڈیا الائنس کا 'عوامی مواخذہ'۔ بی جے پی کی جیت غیرقانونی ہے:راہل

سی ای سی کے خلاف انڈیا الائنس کا 'عوامی مواخذہ'۔ بی جے پی کی جیت غیرقانونی ہے:راہل

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 31 Oct 2026

سی ای سی کے خلاف انڈیا الائنس کا 'عوامی مواخذہ'۔ بی جے پی کی جیت غیرقانونی ہے:راہل
کانگریس کے سینئر لیڈر اور قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے سنسنی خیز الزام لگاتے ہوئے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کی قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر ناموں کو ہٹا کر انتخابی عمل کا ہی مذاق اڑایا گیا اور بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ غیر قانونی طور پر لوک سبھا میں داخل ہوئے۔ راہل نے یہ سخت تبصرے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف ہفتہ کو 'ہندوستان' اتحاد کی طرف سے منعقد 'عوامی مواخذہ' پروگرام میں کئے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی رہائش گاہ پر منعقدہ فرضی پارلیمنٹ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئےراہل گاندھی نے کہا کہ "ملک بھر میں تقریباً 13.3 کروڑ ووٹروں کو فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے، یہ کل ووٹروں کے تقریباً 15 فیصد کے برابر ہے۔ جب بہت سے حلقوں میں جیت کا مارجن صرف 3 فیصد ہے، اتنی بڑی تعداد میں ووٹوں کے ہٹائے جانے سے انتخابات کے منصفانہ ہونے پر شک پیدا ہوتا ہے۔"
 
راہل نے کہا، ’’الیکشن کمیشن نے خود بالواسطہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات غیر قانونی طور پر ہوئے تھے اور بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سی ای سی یہ سمجھتا ہے کہ حکمران قیادت ان کا تحفظ کرے گی تو یہ اس کی غلطی ہے اور اسے عوام کے غصے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ "آپ ووٹ چوری میں تعاون کرتے رہیں۔ لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ سڑکوں پر موجود لوگ آپ کے ساتھ جو دھوکہ کیا ہے اسے کبھی نہیں بھولیں گے۔"
 
پروگرام کی صدارت لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار نے کی۔ کھرگے نے سی ای سی کے خلاف باضابطہ عوامی مواخذے کی تحریک شروع کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت ملک کی روح پر حملہ کر رہی ہے اور اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں بولنے کا ذرہ برابر موقع نہیں دے رہی ہے۔ انڈیا الائنس کے رہنماؤں نے کہا کہ یہ پروگرام الیکشن کمیشن کے کام کاج کے خلاف اپنے احتجاج کے اظہار کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ پروگرام میں کل 19 سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔
 
 راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ نفرت یا بدلہ لینے کے جذبے سے نہیں بلکہ آئین اور عوام کی آواز کے تحفظ کے لیے یہ موقف اختیار کر رہے ہیں۔ ان کے الفاظ میں، “ہم آپ کو بھاگنے نہیں دیں گے۔ ہم بدطینت نہیں ہیں، مگر ہم آئین اور اپنے لوگوں کی آواز کی حفاظت کریں گے۔” انہوں نے اس علامتی کاروائی کو ایک “سیاسی ہتھیار” قرار دیا جس کا رخ گیانیش کمار، وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے بقول جمہوریت کو نقصان پہنچانے والے دیگر ذمہ داران کی جانب ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ امیت شاہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اوپر قیادت مودی اور شاہ کی ہے، مگر گیانیش کمار ان کے “آلے” کے طور پر کام کر رہے ہیں، اس لیے جواب دہی ناگزیر ہے۔
 
راہل گاندھی نے اعلان کیا کہ اتوار کو دہلی کی سڑکوں پر اس مہم کو لے جایا جائے گا اور واضح کیا کہ مبینہ انتخابی دھاندلی اور تحقیقاتی ایجنسیوں جیسے سی بی آئی اور ای ڈی کے “غلط استعمال” کو مستقل نہیں رہنے دیا جائے گا۔ انہوں نے گیانیش کمار کو قانونی استثنا پر بھروسہ نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ہندوستان کی نئی نسل جمہوریت کو نقصان پہنچانے والوں کو معاف نہیں کرے گی۔ ان کے الفاظ میں، “گیانیش کمار کا مواخذہ ہونا چاہیے۔ گیانیش کمار پر مقدمہ چلنا چاہیے۔ گیانیش کمار پر بغاوت کا مقدمہ بھی چلنا چاہیے۔”
 
بی جے پی کی جانب سے اس علامتی مواخذے اور اپوزیشن کے اجتماع پر سخت ردعمل سامنے آیا۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سدھانشو ترویدی نے کانگریس پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ پوری سرگرمی محض ایک “ڈرامائی پارلیمنٹ” ہے، جس کا مقصد اپنے “ شہزادے” کو تسلی دینا ہے اور یہ تاثر قائم کرنا ہے کہ وہ اپنی پسند کی ایک پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔