Saturday, October 31, 2026 | 19 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • جنگ کے خاتمے کی شرائط ہم طے کریں گے: مجتبیٰ خامنہ ای

جنگ کے خاتمے کی شرائط ہم طے کریں گے: مجتبیٰ خامنہ ای

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 31 Oct 2026

 جنگ کے خاتمے کی شرائط ہم طے کریں گے: مجتبیٰ خامنہ ای
 تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ نے صوبہ ہرمزگان کے قریب جزیرہ قشم کے ساحلی پانیوں میں ماہی گیری کرنے والی 2 کشتیوں کو نشانہ بنایا۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ نے ہفتہ کے روز ایک مقامی ضلعی عہدیدار کے متعلق بتایا کہ واقعہ میں 2 ماہی گیر لاپتہ ہیں اور ایک شخص زخمی ہوا ہے۔
 
تاہم امریکہ کی جانب سے اس حملے کی فوری طور پر تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ مقامی حکام کے مطابق لاپتہ افراد کی تلاش اور زخمی کی طبی امداد کے لیے ساحلی گارڈ اور ہنگامی امدادی عملہ تعینات کر دیا گیا ہے، جب کہ حملے کی نوعیت، حملہ آور پلیٹ فارم اور استعمال ہونے والے ہتھیار سے متعلق تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ ایرانی حکام نے کہا کہ واقعہ آبنائے ہرمز کے قریب ان بحری راستوں میں پیش آیا جہاں مقامی ماہی گیر معمول کے مطابق گہرے پانیوں میں جال ڈالتے ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ کاروائی بین الاقوامی بحری قوانین اور علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ اس صورتحال میں ایرانی وزارت خارجہ نے سفارتی چینلز کے ذریعے حقائق جانچنے اور ممکنہ احتجاجی مراسلے کی تیاری کی ہدایت بھی دی ہے۔
 
دوسری جانب واشنگٹن میں متعلقہ اداروں نے میڈیا کے سوالات پر فوری ردعمل دینے سے گریز کیا، جس کے باعث علاقہ میں کشیدگی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ اسی اثنا میں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مسلح افواج کو کسی بھی دشمنانہ خطرے کی صورت میں فوری اور مؤثر جواب دینے کا حکم دیا ہے۔ ان کے جاری کردہ تحریری پیغام کے مطابق جوابی کاروائی کی کوئی جغرافیائی حد مقرر نہیں ہوگی اور اگر دشمن دوبارہ فوجی یا دہشت گردانہ حملہ کرے تو ایران نئے تنازعہ کے خاتمے کا وقت اور شرائط خود طے کرے گا۔
 
میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے دفاعی قیادت کو ہدفوں کی فہرست اپڈیٹ کرنے، تمام امریکی اور اسرائیلی ٹھکانوں اور وسائل کو نشانے کی زد میں رکھنے، گولہ بارود اور ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے، فوجی خفیہ معلومات اکٹھا کرنے کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور اندرونی دفاعی ڈھانچے کو مزید فعال کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ عسکری ماہرین کے مطابق یہ احکامات کمانڈ اینڈ کنٹرول کے فریم ورک کی ازسرِنو درجہ بندی اور ردِ عمل کے اوقات کو کم کرنے کی کوشش ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے پر کثیرسطحی دفاع اور جوابی وار کی صلاحیت برقرار رہے۔ خطے کی صورت حال میں یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے مابین الفاظ کی جنگ تیز ہو چکی ہے۔
 
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ دوبارہ فوجی کاروائی کے اشاروں پر واشنگٹن میں حکمت عملی پر بحث جاری ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملے کے امکانات پر تبادلہ خیال ہو رہا ہے اور اعلیٰ فوجی حکام نے صدر کے سامنے مختلف متبادل آپشن پیش کیے ہیں۔
 
اسی پس منظر میں اسرائیل میں بھی ایران سے متعلق فوجی تیاریاں اور امریکہ کے ساتھ مشترکہ اقدام سے متعلق قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔ علاقائی تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی قربت میں کسی بھی واقعے کے اثرات عالمی توانائی رسد اور بحری آمدورفت پر فوری پڑ سکتے ہیں، اس لیے صورتحال کو سفارتی رابطوں اور قواعدِ جنگ کی سخت پابندی سے سنبھالنا ناگزیر ہے۔ فی الحال ایرانی حکام لاپتہ ماہی گیروں کی تلاش، حملے کے شواہد کے فنی معائنہ اور ممکنہ سفارتی ردعمل پر مرکوز ہیں، جب کہ امریکہ کی باضابطہ پوزیشن سامنے آنے تک خطہ غیر یقینی کی کیفیت میں ہے۔