Wednesday, September 23, 2026 | 09 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • اتوار کو بینک کھلے رہیں گے: مرکزی وزارت خزانہ

اتوار کو بینک کھلے رہیں گے: مرکزی وزارت خزانہ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 23 Sept 2026

اتوار کو بینک کھلے رہیں گے: مرکزی وزارت خزانہ
یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (UFBU) کی جانب سے 28 سے 30 ستمبر 2026 تک ملک گیر بینک ہڑتال کی کال دی ہے اور اس سے قبل 26 اور27 ستمبر کو ہفتہ وار تعطیلات کے پیشِ نظر، حکومت نے شہریوں کی بینکاری ضروریات کو محفوظ بنانے کے لیے پیشگی اقدامات کیے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ عوام کی بینکاری سے متعلق جائز ضروریات طویل عرصے تک متاثر نہ ہوں، تمام پبلک سیکٹر بینک اور علاقائی دیہی بینک (Regional Rural Banks) اتوار، 27 ستمبر 2026 کو معمول کے مطابق کام کریں گے۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے تمام بینک شاخوں، دفاتر، اے ٹی ایم سے منسلک شاخوں اور کرنسی چیسٹس (Currency Chests) کو 27 ستمبر 2026 کو مکمل طور پر فعال رہنے کی اجازت دے دی ہے۔

بینک ملازمین کی ہڑتال کے پیش نظر لیا گیا فیصلہ 

 یعنی بینک صارفین کو مسائل  سے بچانے  کے لیے، مرکزی وزارت خزانہ نے اس اتوار (27 ستمبر) کو پبلک سیکٹر ز بینکوں اور علاقائی دیہی بینکوں (RRBs) کو کھلا رکھنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ یہ فیصلہ مسلسل پانچ دنوں ( 26 سے30ستمبر)تک بینکنگ خدمات میں خلل سے بچنے کے لیے لیا گیا ہے۔

 بینک صارفین کو مسائل سے بچانے کی کوشش

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے اتوار کو بینک کی شاخوں، دفاتر، اے ٹی ایم سے منسلک شاخوں اور کرنسی سیکشن کے کام کو منظوری دے دی ہے۔ اس کے ساتھ، صارفین آنے والے  اتوار  یعنی 27ستمبرکو کسی بھی ہنگامی بینکنگ خدمات  سے استفادہ  کر سکتے ہیں۔  حکام کا کہنا ہےکہ بینک صارفین کی سہولت کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ اسی لیے حکومت اور بینک انتظامیہ نے بینک ملازمین کی یونینوں سے تین روزہ ہڑتال ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے۔ مرکزی وزارت نے بھی ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ بینکنگ خدمات میں خلل سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔

بینک ملازمین کی ہڑتال کیوں؟

یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (یو ایف بی یو) نے 28 سے 30 ستمبر تک تین روزہ ہڑتال کی کال دی ہے۔ بینک یونین بنیادی طور پر پانچ دن کے کام کے ہفتے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بینک یونینز ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں اضافہ، ملازمین کے برابر پنشنرز کے ڈی اے میں اضافہ اور نیشنل پنشن سسٹم (این پی ایس) کے بجائے پرانے پنشن سسٹم کو نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کر رہی ہیں۔

 لیبر کمشنر اور ملازمین کی بات چیت 

ڈپٹی چیف لیبر کمشنر نے منگل کو یو ایف بی یو کے نمائندوں سے بات چیت کی۔ لیکن مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے۔ بینک ملازمین کی یونینوں نے کہا ہے کہ اگر ہمارے مطالبات پر کوئی خاص یا مثبت یقین دہانی کرائی گئی تو وہ ہڑتال پر دوبارہ غور کریں گے۔ہڑتال کی مدت کے دوران، موبائل، انٹرنیٹ بینکنگ، اے ٹی ایم ، یوپی آئی  وغیرہ بینکنگ ضروریات کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے ۔
 
پبلک سیکٹر بینکس کے بہت سے بینک صارفین سے ڈیجیٹل خدمات استعمال کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ بینکوں کی ششماہی مدت 30 ستمبر کو ختم ہو رہی ہے۔