سابق امریکی صدر کے مطابق ووٹر ایسی قیادت چاہتے ہیں جو لوگوں کو جوڑنے
مہنگائی اور روزگار جیسے مسائل حل کرنے اور بہتر کارکردگی دکھانے پر توجہ دے
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد سابق صدر براک اوباما نے ڈیموکریٹک امیدواروں کی کامیابی کو عوام کا اہم پیغام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریپبلکن پارٹی کی کئی اہم نشستوں پر شکست اور ڈیموکریٹس کی کامیابی سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی عوام تقسیم اور ٹکراؤ کی سیاست سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ منگل کی رات انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد براک اوباما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ ووٹر ایسی سیاست اور قیادت چاہتے ہیں جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے، روزمرہ زندگی کے مسائل کا حل پیش کرے اور اپنی کارکردگی سے عوام کا اعتماد حاصل کرے۔ ان کے مطابق یہ نتائج صرف انتخابی جیت اور ہار نہیں بلکہ امریکی عوام کی بدلتی ہوئی سیاسی ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔
مشکل نشستوں پر بھی ڈیموکریٹس کی کامیابی
اوباما نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں ڈیموکریٹ امیدواروں کی محنت اور ان کے انتخابی ایجنڈے نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق کئی ایسی نشستوں پر بھی ڈیموکریٹ امیدوار کامیاب ہوئے جنہیں طویل عرصے سے پارٹی کے لیے مشکل سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان امیدواروں کا تعلق مختلف سماجی اور معاشی پس منظر سے تھا اور ان کے سیاسی نظریات میں بھی فرق تھا، لیکن سب کو ایک بات نے جوڑے رکھا، اور وہ تھی عوامی مسائل حل کرنے، باہمی احترام اور مل کر کام کرنے کی سوچ۔
انتخابی عمل کو جمہوریت کی مضبوطی قرار دیا
سابق صدر نے امریکی انتخابی عمل کی تعریف کرتے ہوئے ہزاروں انتخابی عہدیداروں اور رضاکاروں کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دباؤ کے باوجود انتخابی عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنا اور ووٹوں کی محفوظ، شفاف اور بروقت گنتی یقینی بنانا جمہوریت کے اہم ترین کاموں میں شامل ہے۔ اوباما نے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور انتخابی عملے کی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ اس بار انہوں نے بڑی حد تک اپنی ذمہ داری بہتر انداز میں ادا کی۔
ڈیموکریٹس کو آئندہ دو سال کے لیے اہم مشورہ
براک اوباما نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کی مدت مکمل ہونے میں ابھی دو سال باقی ہیں۔ ایسے میں ڈیموکریٹک پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو چاہیے کہ وہ عوامی مسائل پر توجہ دیں، جہاں پالیسی کے ذریعے بہتری ممکن ہو وہاں عملی اقدامات کریں اور ممکنہ نقصانات کو کم کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ معیشت، مہنگائی، روزگار، صحت عامہ اور تعلیم جیسے مسائل امریکی عوام کی فوری ترجیحات ہیں۔ منتخب نمائندوں کو عوام کے اس پیغام کو سمجھ کر اپنی پالیسی بنانی ہوگی۔
ٹرمپ کی سیاست کے لیے بھی دھچکا؟
سیاسی مبصرین ان انتخابی نتائج کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی اثر و رسوخ کے لیے بھی ایک دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ کئی اہم نشستوں پر ریپبلکن امیدواروں کو مطلوبہ کامیابی نہیں مل سکی، اگرچہ بعض حلقوں میں مقابلہ سخت رہا۔ اوباما نے اپنے پیغام کے آخر میں کہا کہ ووٹروں نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے، اب منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مینڈیٹ کا احترام کریں، اختلافِ رائے کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں اور ایسے فیصلے کریں جن سے عام امریکی شہری کی زندگی میں حقیقی بہتری آئے۔







