خلیج بنگال میں موجود شدید کم دباؤ کا نظام، جسے ’ڈیپ ڈپریشن‘ کہا گیا ہے، شمالی آندھرا پردیش اور جنوبی اڈیشہ کے ساحل کو عبور کر چکا ہے۔ اس کے بعد بھی اڈیشہ اور آندھرا پردیش کے کئی علاقوں میں شدید بارش اور تیز ہواؤں کا خطرہ برقرار ہے۔ IMD کے مطابق نظام 23 ستمبر کی رات ساحل عبور کرنے کی سمت میں تھا اور 24 ستمبر کو بھی کراسنگ جاری ہے۔ IMD نے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی ہوئی ہے۔
اڈیشہ میں احتیاطی اقدامات
اڈیشہ کے کئی اضلاع میں احتیاطی اقدامات کیے گئے۔ گجپتی سے تقریباً 1,500 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ ریاستی وزیر سریش پجاری نے بتایا کہ ایک ہزار پانچ سو سے زیادہ افراد کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر پہنچایا جا چکا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ انتہائی چوکس رہے اور لوگوں کو سیلابی پانی میں پھنسنے سے بچایا جائے۔
نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو پانی پہنچنے سے پہلے محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ خطرے والے علاقوں میں سانپ کے کاٹنے کے علاج کے لیے اینٹی وینم سمیت ضروری ادویات بھی دستیاب کرائی گئیں۔
اڈیشہ فائر سروس کی 380 ٹیمیں ہائی الرٹ
خراب موسم کے پیش نظر اڈیشہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کی 380 ٹیموں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔ ان ٹیموں کے پاس بھاری مشینری اور مختلف ہنگامی حالات سے نمٹنے والی گاڑیاں بھی موجود ہیں۔
شدید بارش، 5 ہزار سے زائد افراد منتقل
ڈیپ ڈپریشن کے باعث جنوبی اور ساحلی اڈیشہ میں شدید بارش ہوئی۔ اس صورتحال کے پیش نظر کم از کم 5,000 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کوراپٹ ضلع کے سیمیلی گوڈا میں سب سے زیادہ 230 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ اسی ضلع کے جے پور میں 161 ملی میٹر بارش ہوئی۔
ریاست کے 16 سے زیادہ مقامات پر 10 سینٹی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اڈیشہ ڈیزاسٹر ریپڈ ایکشن فورس (ODRAF) کی 33 ٹیمیں بھی متحرک کی گئیں۔
10 اضلاع میں اسکول اور آنگن واڑی مراکز بند
اڈیشہ حکومت نے احتیاطی طور پر 10 اضلاع میں تعلیمی ادارے اور آنگن واڑی مراکز بند رکھنے کا حکم دیا۔ سرکاری ملازمین کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئیں اور انہیں اپنے ہیڈکوارٹرز میں موجود رہنے کی ہدایت دی گئی۔
حساس علاقوں کے ہسپتالوں کو ہنگامی صورتحال کے لیے ضروری ادویات کا وافر ذخیرہ رکھنے کی ہدایت دی گئی۔ نشیبی علاقوں میں موجود حاملہ خواتین کو بھی حفاظت کے لیے قریبی کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز (CHCs) یا ’ماں گریاس‘ (Maa Gruhas) مراکز منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی۔







