الیکشن کمیشن اور اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل سے متعلق جاری تنازع کے درمیان چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن نے مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن کی تمام جماعتیں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مواخذے کا نوٹس پیش کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مواخذے کی تحریک سے متعلق نوٹس کا مسودہ اس وقت تیار کیا جا رہا ہے۔ امکان ہے کہ آئندہ چند دنوں میں یہ نوٹس لوک سبھا اور راجیہ سبھا، دونوں میں جمع کرا دیا جائے گا۔ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر باہمی مشاورت کا عمل جاری ہے اور نوٹس کو حتمی شکل دینے کے بعد اسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کیا جائے گا۔
چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مواخذے کی تیاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب الیکشن کمیشن کے SIR عمل کو لے کر اپوزیشن جماعتیں مسلسل سوالات اٹھا رہی ہیں۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے عمل میں بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور اس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے اپنے عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی مقررہ قانونی اور آئینی طریقہ کار کے تحت کی جا رہی ہے۔ کمیشن کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اندرونی مشاورت کے دوران مختلف آراء سامنے آنا معمول کی بات ہے اور اس بنیاد پر ادارے کے فیصلوں پر سوال نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے تیار کیا جانے والا مواخذے کا نوٹس پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کارروائی کا مقصد چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ان الزامات اور اعتراضات کو پارلیمانی سطح پر اٹھانا ہے جنہیں اپوزیشن انتخابی عمل اور SIR سے متعلق تنازع سے جوڑ رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مواخذے کی کارروائی کے لیے نوٹس پیش کرنے کی خاطر پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہونا ضروری نہیں ہے۔ یعنی موجودہ اجلاس کے ختم ہونے کے بعد بھی مقررہ طریقہ کار کے تحت نوٹس پیش کیا جا سکتا ہے۔
ابھی یہ واضح ہونا باقی ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے تیار کیے جا رہے نوٹس میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کون کون سے مخصوص الزامات اور نکات شامل کیے جائیں گے۔ تاہم، اگر اپوزیشن یہ نوٹس باضابطہ طور پر پیش کرتی ہے تو الیکشن کمیشن کے کردار، SIR کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داریوں سے متعلق جاری سیاسی بحث مزید پارلیمانی سطح پر پہنچ سکتی ہے۔






