Wednesday, November 04, 2026 | 23 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • روح اللہ کے استعفے کےبعد جموں و کشمیر کی سیاست میں ہلچل۔ این سی کو کمزور کرنے بی جے پی پر الزام

روح اللہ کے استعفے کےبعد جموں و کشمیر کی سیاست میں ہلچل۔ این سی کو کمزور کرنے بی جے پی پر الزام

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 04 Nov 2026

 روح اللہ کے استعفے کےبعد جموں و کشمیر کی سیاست میں ہلچل۔ این سی کو کمزور کرنے بی جے پی پر الزام
سری نگرسے لوک سبھا کے رکن آغا روح اللہ مہدی کے استعفے کے بعدجموں و کشمیر میں سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ اسی دوران  دوران جموں و کشمیر کے نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے کی منظم کوشش کر رہی ہے۔ سریندر چودھری  کے مطابق استعفیٰ کے فوری بعد یہ تاثر ابھرا کہ ریاست کی مرکزی جماعت کو اندرونی انتشار اور بیرونی دباؤ سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی وفاداریوں میں دراڑ ڈالنے اور اتحادوں کو متزلزل کرنے کی کوششیں انتخابی ماحول اور حکومتی تشکیل کے امکانات پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس رجحان کو روکا نہ گیا تو جمہوری نمائندگی متاثر ہوگی۔ 
 
کیا غلام نبی آزاد، آغا روح اللہ اور انجینئر رشید نئی جماعت بنانے جا رہے ہیں؟
جموں و کشمیر کے ڈپٹی چیف منسٹر سرندر چوڈھری نے بدھ کو سوال اٹھایا کہ کیا غلام نبی آزاد، آغا روح اللہ اور رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید مل کر نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے والے ہیں، اور الزام عائد کیا کہ بی جے پی اپنی حکمتِ عملی کے تحت ان تین قائدین کو استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس کھیل میں بی جے پی کے تین چہرے ہیں: غلام نبی آزاد صاحب، آغا صاحب اور انجینئر رشید صاحب، اور پوچھا کہ کیا یہی تین چہرے نئی جماعت کو جنم دیں گے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بی جے پی مسلسل نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے اور توڑنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
 
  آغا روح اللہ کو این سی سے باہر نکالنے میں بی جے پی کامیاب: سلمان ساگر
نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی سلمان ساگر نے بدھ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پارٹی کے ایم پی آغا روح اللہ مہدی پر سخت تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ بی جے پی نیشنلس کانفرنس کو کمزور کرنے کی اپنی کوشش میں اس حد تک کامیاب ہوئی کہ روح اللہ نے پارٹی سے فاصلہ اختیار کیا۔ ساگر نے کہا کہ روح اللہ کو چاہیے تھا کہ وہ پارٹی کے انتخابی مینڈیٹ کی قوت سے اندرونِ خانہ سیاسی لڑائیاں لڑتے، باہر نہیں جاتے۔ ان کے مطابق 50 ایم ایل ایز کا مینڈیٹ ایک فردِ واحد کے مقابلے میں کہیں بڑی طاقت ہے اور مشکلات کا حل مکالمے اور اندرونی مزاحمت سے نکالا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ روح اللہ نے کتنی بار ارکانِ اسمبلی اور قیادت سے مسائل رجوع کیئے۔
 
نیشنل کانفرنس کے الزامات بے بنیاد۔الطاف ٹھاکر کا بیان 
  بی جے پی کے سینئر رہنما اور ترجمان الطاف ٹھاکر نے نیشنل کانفرنس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آغا روح اللہ مہدی کے پارٹی سے الگ ہونے میں اُن کی جماعت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ منصف ٹی وی سے بات کرتے ہوئے الطاف ٹھاکر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس بی جے پی کے خوف کی وجہ سے ایسے بے بنیاد الزامات عائد کر رہی ہے۔
 
روح اللہ کا استعفیٰ افسوسناک: مگر نیشنل کانفرنس کمزورنہیں ہوگی، شاہین
 این سی  کے سینئر رہنما شاہین نے کہا ہے کہ روح اللہ کی پارٹی سے علیحدگی افسوس ناک ضرور ہے مگر اس سے نیشنل کانفرنس کی تنظیمی قوت کمزور نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ بیان آج سری نگر میں میڈیا سے گفتگو کے دوران دیا، جب صحافیوں نے روح اللہ کے اچانک قدم پر ردعمل پوچھا۔ شاہین کے مطابق پارٹی کی جڑیں عوام میں مضبوط ہیں، وارڈ اور ضلع سطح کی تنظیمیں متحرک ہیں اور پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ان کے مطابق قیادت نے رکنیت اور عہدوں کی ذمہ داریاں واضح طور پر بانٹ رکھی ہیں، اس لیے ایک فرد کا جانا ادارہ جاتی کام میں رخنہ نہیں ڈالتا۔ شاہین نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ آئندہ سیاسی مرحلے اور انتخابات کی تیاری پر توجہ دیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قیادت دروازے کھلے رکھتی ہے، اختلاف رائے جمہوری حق ہے، مگر پارٹی ایجنڈا عوامی مفاد، روزگار اور امن کے ایجنڈے پر مرکوز رہے گا۔