ڈیموکریٹ نوجوان خاتون مسلم لیڈر نبیلہ سید، ان کے والدین کا تعلق حیدرآباد دکن سے بتایا جا رہا ہے، نے الینائے اسٹیٹ سینیٹ میں تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ری پبلکن امیدوار ڈاربی ہلز کو شکست دے دی۔ الینائے کی جنرل اسمبلی کے ایوانِ بالا میں وہ اب ضلعِ سینیٹ 26 کی نمائندگی کریں گی۔ عمر 27 سال، وہ ایسے والدین کی بیٹی ہیں جو 1980 کی دہائی میں بھارت کے شہر حیدرآباد سے امریکہ منتقل ہوئے تھے۔ نبیلہ نے پہلی بار 2022 میں کالج سے ڈسچارج التحصیل ہونے کے فوراً بعد الینائے ایوانِ نمائندگان کی نشست جیتی تھی اور 2024 میں دوبارہ منتخب ہوئیں۔ تازہ وسط مدتی انتخابات میں ان کی یہ جیت متعدد تاریخی اولین واقعات کے درمیان سامنے آئی، جنہوں نے امریکی سیاست میں نئی سمتیں متعین کیں۔
نبیلہ سید نے اپنی پہلی کامیابی کے موقع پر کہا تھا کہ سیاست ان کے نزدیک اس بات کا نام ہے کہ ہر شخص کو اپنے ہونے کا احساس دلایا جائے۔ ان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے منتخب ہونے کے دن وہ اپنی ہر کلاس میں رو پڑیں کیونکہ انہیں لگا کہ یہ ملک ان کا نہیں رہا، حالانکہ یہ ان کا واحد گھر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی تجربے نے انہیں اپنے حلقے کے ہر فرد کے لیے شمولیت اور تعلق کے جذبے کو مضبوط بنانے پر آمادہ کیا۔ نئی جیت کے بعد ان کا پیغام وہی ہے: اپنے تنوع پر فخر اور ہر شہری کے لیے برابری کا احساس۔ نبیلہ نے اپنے جیت پر خوشی کا اظہار کیا ۔ اور ساتھ ہی ان کی حمایت پر کر نے پر عوام سے اظہار تشکر کیا۔ انھوں کہاکہ مجھے فخر ہے کہ ہماری کمیونٹی ایسی ہی ہے: ایسے لوگ جو ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں، جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہم مل کر کیا کچھ تعمیر کر سکتے ہیں، اور جو مجھے ہر روز یاد دلاتے ہیں کہ میں اتنے پرجوش انداز میں اس حلقے کی نمائندگی کیوں کرنا چاہتا ہوں۔
نبیلہ سیداپنی جیت کا اعلان 97 سیکنڈ کی جیت کی تقریر کی ویڈیو سوشل میڈیا میں شیئر کی ۔ویڈیو میں سید کو ایک پرہجوم تقریب میں ووٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس میں ایک نوجوان خاتون کی جانب سے ریپبلکن کے زیر قبضہ مضافاتی نشست کے تاریخی پلٹنے پر زور دیا گیا ہے جبکہ "ناممکن" کو ممکن بنانے کے لیے کمیونٹی کی حمایت کا سہرا دیا گیا ہے۔اس نے موجودہ ریپبلکن ڈاربی ہلز کو الینوائے کی سب سے مہنگی قانون ساز دوڑ میں سے ایک میں 57فیصد ووٹوں کے ساتھ شکست دی، جس کا مرکز ڈیٹا سینٹر کے توانائی کے اخراجات، ٹیکسوں اور تعلیمی فنڈنگ جیسے مسائل پر تھا۔
یہ انتخابی مرحلہ صرف نبیلہ سید کی کامیابی تک محدود نہیں رہا۔ ملک گیر سطح پر ڈیموکریٹ پارٹی نے کانگریس پر کنٹرول حاصل کرتے ہوئے ری پبلکن پارٹی، جسے عموماً جی او پی کہا جاتا ہے، کو واضح پیغام دیا۔ حتیٰ کہ روایتی ری پبلکن ریاستوں میں بھی ہوا کا رخ بدلا اور کم از کم 7 سینیٹ نشستیں ڈیموکریٹس کے پلڑے میں گئیں۔
3 نومبر 2026ء کو ہوئے امریکی وسط مدتی (مڈٹرم) انتخابات میں پانچ بھارتی نژاد امریکی ڈیموکریٹس نے امریکی ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان کامیاب ہونے والے امیدواروں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. ایمی بیرا (Ami Bera): انہوں نے کیلیفورنیا کے تیسرے کانگریسی حلقے سے مسلسل آٹھویں بار فتح حاصل کی ہے۔کیلیفورنیا کے حلقہ نمائندگی 3 سے ہندوستانی نژاد ڈیموکریٹ ایمی بیرا نے ری پبلکن رَوب ٹکر کو شکست دے کر امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست برقرار رکھی۔ عمر 61 سال، ایمی بیرا آٹھویں بار منتخب ہوئے ہیں اور امریکی کانگریس میں سب سے طویل عرصہ خدمات انجام دینے والے ہندوستانی نژاد قانون ساز مانے جاتے ہیں۔ بطور معالج سے سیاست دان بننے تک ان کی شناخت صحت عامہ اور سفارت کاری پر مضبوط مؤقف سے جڑی رہی ہے۔
2. رو کھنا (Ro Khanna): انہوں نے کیلیفورنیا کے 17ویں کانگریسی حلقے (سلیکان ویلی) سے اپنی نشست برقرار رکھی۔
3. پرمیلا جے پال (Pramila Jayapal): ریاست واشنگٹن کے ساتویں کانگریسی حلقے سے بھاری اکثریت کے ساتھ دوبارہ منتخب ہوئیں۔
4. سہاس سبرامنیم (Suhas Subramanyam): ریاست ورجینیا کے 10ویں کانگریسی حلقے سے دوسری مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ورجینیا کے حلقہ 10 سے ہندوستانی نژاد ڈیموکریٹ سہاس سبرمنیم نے ری پبلکن ڈیو ٹی بیکوتھ کو شکست دے کر دوبارہ کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے انتخاب سے قبل ہندوستانی نژاد امریکیوں سے اپیل کی تھی کہ نفرت اور امتیاز کے بڑھتے رجحانات کے مقابلے میں اپنی آواز مضبوط کریں اور ووٹ کے ذریعے شمولیت کو یقینی بنائیں۔
5. پیا ڈانڈِیا (Pia Dandiya): انہوں نے فلوریڈا کے 22ویں کانگریسی حلقے سے ریپبلکن حریف کو شکست دے کر پہلی بار امریکی ایوانِ نمائندگان میں قدم رکھا ہے۔ وہ فلوریڈا سے منتخب ہونے والی پہلی بھارتی نژاد امریکی رکنِ کانگریس بن گئی ہیں۔فلوریڈا کے حلقہ 22 سے پیا دنڈیا 51.9 فیصد ووٹ لے کر امریکہ کی نئی ہندوستانی نژاد رکنِ کانگریس بن گئیں۔ سابق ہائی اسکول پرنسپل پیا دنڈیا نے ازسرِنو حلقہ بندی کے بعد جنوبی فلوریڈا کے اس حلقے میں قسمت آزمائی کی، جہاں کوئی موجودہ رکن میدان میں نہیں تھا، اور یہ ریاستِ فلوریڈا سے کانگریس میں پہلی نسل کی ہندوستانی نژاد نمائندہ بننے کا اعزاز ہے۔اس کے علاوہ، ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک اور بھارتی نژاد امیدوار ڈاکٹر امیش شاہ بھی اریزونا کے حلقے سے آگے چل رہے تھے۔
مجموعی طور پر ان انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔مشگن میں عبدل السید نے تقریباً 50.88 فیصد ووٹ لے کر ری پبلکن مائیک راجرز کو ہرا دیا اور امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار سینیٹ کی نشست جیتنے والے مسلم امیدوار بنے۔ انہوں نے اپریل 2025 میں اپنی امیدواری کا اعلان کیا تھا اور تیزی سے قومی منظرنامے پر ابھرے۔
3 نومبر کے انتخابات، جو ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے نصف راستے پر ہوئے، ڈیموکریٹس کو کانگریس کے دونوں ایوانوں پر متوقع کنٹرول فراہم کر دیا۔ ایوان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر گورنر شپ اور ریاستی اور مقامی دفاتر کے ساتھ مقابلہ ہوا۔ 1957 میں دلیپ سنگھ ساؤنڈ کے کانگریس کے پہلے ہندوستانی نژاد رکن بننے کے بعد سے ہندوستانی نژاد امریکی سیاسی نمائندگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستانی نسل کے امیدوار اب دونوں بڑی سیاسی جماعتوں میں کانگریسی، ریاستی اور مقامی دفاتر کے لیے مقابلہ کرتے ہیں۔






