Wednesday, November 04, 2026 | 23 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • شدید گٹھیا میں کیا گھٹنے کی تبدیلی ہی واحد علاج ہے؟ جدید طریقہ علاج سے مریضوں کے لیے نئی امید

شدید گٹھیا میں کیا گھٹنے کی تبدیلی ہی واحد علاج ہے؟ جدید طریقہ علاج سے مریضوں کے لیے نئی امید

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 04 Nov 2026

 شدید گٹھیا میں کیا گھٹنے کی تبدیلی ہی واحد علاج ہے؟ جدید طریقہ علاج سے مریضوں کے لیے نئی امید
 
گھٹنوں کا درد عمر بڑھنے کے ساتھ ایک عام مسئلہ بن سکتا ہے لیکن جب یہی درد روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے لگے اور چلنے پھرنے میں دشواری پیدا کرے تو اسے نظر انداز کرنا مناسب نہیں۔ آرتھرائٹس یا جوڑوں کے گٹھیا میں گھٹنے کے جوڑ کی نرم تہہ آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے جس کے نتیجے میں درد سوجن اور حرکت میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ ایسے مریضوں کے ذہن میں اکثر یہ سوال ہوتا ہے کہ کیا شدید آرتھرائٹس میں گھٹنے کی تبدیلی ہی واحد حل ہے؟اسی اہم موضوع پر منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ہیلتھ اور ہم میں ڈاکٹر ڈی پردیپ ورما کنسلٹنٹ آرتھوپیڈک اینڈ جوائنٹ ریپلیسمنٹ سرجن جیم کیئر پولومی ہاسپٹلس ڈاکٹر اے ایس راؤ نگر روڈ حیدرآباد نے تفصیلی روشنی ڈالی۔
 
کیا ہر مریض کو گھٹنے کی تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے؟
ماہرین کے مطابق گھٹنے کی تبدیلی ہر مریض کے لیے پہلا یا لازمی علاج نہیں ہے۔ بیماری کی شدت مریض کی عمر وزن جسمانی سرگرمی اور مجموعی صحت کو دیکھتے ہوئے علاج کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ابتدائی اور درمیانی مرحلے کے آرتھرائٹس میں بعض مریضوں کو بغیر سرجری کے بھی کافی آرام مل سکتا ہے۔ اس کے لیے فزیوتھراپی وزن میں کمی مناسب ورزش اور ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات استعمال کی جاسکتی ہیں۔ بعض صورتوں میں مخصوص انجیکشن بھی درد کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں تاہم ان کا فائدہ ہر مریض میں یکساں نہیں ہوتا۔
 
کن حالات میں سرجری ضروری ہوسکتی ہے؟
جب گھٹنے کا جوڑ بہت زیادہ خراب ہوجائے اور مریض کو مسلسل درد کی وجہ سے چلنے پھرنے سونے یا روزمرہ کام انجام دینے میں دشواری ہو تو جوائنٹ ریپلیسمنٹ پر غور کیا جاسکتا ہے۔گھٹنے کی تبدیلی کے آپریشن میں خراب جوڑ کی سطح کو مصنوعی حصوں سے تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ درد کم ہو اور حرکت بہتر ہوسکے۔ بعض مریضوں میں مکمل گھٹنے کی تبدیلی کے بجائے جزوی گھٹنے کی تبدیلی بھی ممکن ہوتی ہے۔ اس کا فیصلہ ایکسرے اور دیگر طبی معائنے کے بعد کیا جاتا ہے۔
 
ورزش اور احتیاط کی اہمیت
گھٹنوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے وزن کو قابو میں رکھنا اور مناسب جسمانی سرگرمی جاری رکھنا ضروری ہے۔ تیراکی اور ہلکی چہل قدمی جیسی سرگرمیاں بعض مریضوں کے لیے مفید ہوسکتی ہیں۔ تاہم شدید درد کی صورت میں خود سے ورزش شروع کرنے کے بجائے ماہر ڈاکٹر یا فزیوتھراپسٹ سے مشورہ کرنا چاہیے۔
 
منصف ٹی وی کے پروگرام ہیلتھ اور ہم کا مقصد عوام کو صحت کے اہم مسائل اور جدید طبی سہولتوں سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔ گھٹنے کے شدید آرتھرائٹس میں درست وقت پر تشخیص اور مریض کی ضرورت کے مطابق علاج کا انتخاب بہتر زندگی کی طرف اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔
قارئین آپ ڈاکٹر ڈی پردیپ ورما کی مکمل گفتگو یہاں👇 دیکھ سکتےہیں۔ اور ساتھ ہی منصف ٹی وی پرصحت سے متعلق  ہزاروں ویڈیوز بھی دیکھ سکتےہیں۔