نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کی اپیل کے بعد بامبۓ ہائی کورٹ نے 2021 کے اینٹیلیا بم دھمکی میں برطرف پولیس افسر سچن وازے کو دی گئی ضمانت پر عبوری روک لگا دی ہے۔ خصوصی این آئی اے عدالت نے 29 ستمبر 2026 کو وازے کو ضمانت دی تھی، جسے این آئی اے نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔
جسٹس گریش کلکرنی اور جسٹس نیلا گوکھلے کی بنچ نے این آئی اے کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے وازے کو نوٹس جاری کیا اور معاملے کی اگلی سماعت 7 اکتوبر کے لیے مقرر کی۔ عدالت نے ریاستی حکام کو ہدایت دی کہ جیل حکام کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے کہ وازے کو رہا نہ کیا جائے۔ اس کا مطلب ہے کہ خصوصی عدالت سے ضمانت ملنے کے باوجود وازے فی الحال جیل سے باہر نہیں آ سکیں گے۔
اس سے قبل این آئی اے کی اپیل پر ایک دوسری بنچ کے سامنے سماعت ہوئی تھی، لیکن جسٹس بھارتی ڈانگرے اور جسٹس آشیش چوہان کی بنچ نے خود کو اس معاملے سے الگ کر لیا۔ اس کے بعد این آئی اے نے معاملہ جسٹس گریش کلکرنی اور جسٹس نیلا گوکھلے کی بنچ کے سامنے پیش کیا۔
خصوصی عدالت نے وازے کو ضمانت کیوں دی؟
29 ستمبر کو خصوصی این آئی اے عدالت نے وازے کو ضمانت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس مرحلے پر دستیاب شواہد ضمانت روکنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ این آئی اے یہ ظاہر نہیں کر سکی کہ مکیش امبانی یا ان کے خاندان کو واقعی دہشت زدہ کیا گیا تھا۔
عدالت کے مطابق، این آئی اے کی جانب سے امبانی خاندان کے کسی رکن کا بیان بھی ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر واقعے کو دہشت گردی قرار دیا جا رہا ہے تو اتنے سال گزرنے کے باوجود مبینہ ہدف بننے والے افراد کے بیانات کیوں نہیں لیے گئے۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ دھماکہ خیز مواد سے بھری ایس یو وی اینٹیلیا کے عین سامنے نہیں بلکہ شکھرکنج بلڈنگ کے قریب کھڑی کی گئی تھی، اور دونوں مقامات کے درمیان کئی عمارتیں موجود تھیں۔ عدالت نے کہا کہ دستیاب مواد کی بنیاد پر اس واقعے کو UAPA کی دفعہ 15 کے تحت دہشت گرد کاروائی قرار دینے کا معاملہ بادی النظر میں واضح نہیں ہوتا۔
وازے کو ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کی مقامی ضمانت پر رہا کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔ ان پر پاسپورٹ جمع کرانے اور مقدمے کے اہم گواہوں کے بیانات مکمل ہونے تک ممبئی، نوی ممبئی، تھانے، اور رائے گڑھ میں داخل نہ ہونے جیسی شرائط بھی عائد کی گئی تھیں۔
اینٹیلیا کیس کیا ہے؟
25 فروری 2021 کو جنوبی ممبئی میں صنعت کار مکیش امبانی کی رہائش گاہ ’اینٹیلیا‘ کے قریب دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک ایس یو وی ملی تھی۔ بعد میں اس معاملے کی تفتیش این آئی اے نے سنبھالی۔ گاڑی کے مالک 'Mansukh Hiran' پانچ مارچ 2021 کو تھانے کے قریب ایک کھاڑی میں مردہ پائے گئے تھے۔
این آئی اے نے الزام لگایا کہ سچن وازے اس سازش میں ملوث تھے اور گاڑی کو امبانی کی رہائش گاہ کے قریب کھڑا کرنے کے ساتھ Mansukh Hiran کے قتل کی سازش میں بھی ان کا کردار تھا۔ وازے کو مارچ 2021 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں ان کے خلاف قتل، مجرمانہ سازش، UAPA اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت کاروائی کی گئی۔
اب بامبۓ ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت پر عبوری روک کے بعد وازے کی رہائی رک گئی ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 7 اکتوبر کو ہوگی، جہاں این آئی اے کی اپیل پر مزید کاروائی ہوگی۔







