Wednesday, September 30, 2026 | 16 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • دہلی فسادات سازش کیس: عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد

دہلی فسادات سازش کیس: عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 30 Sept 2026

دہلی فسادات سازش کیس: عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد
دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق مبینہ سازش کے کیس میں جے این یو کے سابق طلبہ عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے کہا کہ وہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے جنوری میں دیے گئے حکم کی پابند ہے، جس کے تحت دونوں کو اس مرحلے پر ضمانت نہیں دی گئی تھی۔ جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کہا کہ موجودہ مرحلے پر ضمانت دینا سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات میں تبدیلی کے مترادف ہوگا۔ سپریم کورٹ نے جنوری میں کہا تھا کہ عمر خالد اور شرجیل امام اپنی ضمانت کی درخواستیں اس وقت دوبارہ دائر کر سکتے ہیں جب محفوظ گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہو جائیں یا عدالت کے حکم کے ایک سال مکمل ہو جائیں، دونوں میں سے جو بھی پہلے ہو۔ ہائی کورٹ کے مطابق، فی الحال ان دونوں میں سے کوئی بھی شرط پوری نہیں ہوئی ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے دونوں کی تازہ ضمانت درخواستوں کو مسترد کر دیا۔
 
عمر خالد اور شرجیل امام پرغیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کے تحت مقدمہ درج ہے۔ دونوں فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات سے متعلق کیس میں تقریباً چھ سال سے حراست میں ہیں۔ یہ تشدد شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور مجوزہ NRC کے خلاف احتجاج کے دوران بھڑکا تھا، جس میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دونوں ملزمان کی جانب سے دلیل دی گئی کہ طویل عرصے سے جاری قید اور سپریم کورٹ کے بعد کے ایک دیگر UAPA مقدمے میں دیے گئے فیصلے سے حالات میں تبدیلی آئی ہے۔ تاہم، ہائی کورٹ نے کہا کہ کسی دوسرے مقدمے میں کسی اور بنچ کا فیصلہ اس مخصوص معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات پر فوقیت نہیں رکھتا۔
 
سپریم کورٹ نے 5 جنوری کے اپنے فیصلے میں اسی مقدمے کے پانچ دیگر ملزمان کے معاملے میں مختلف فیصلہ دیا تھا۔ عدالت نے گلفشا فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمٰن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو 12 شرائط کے ساتھ ضمانت دی تھی۔ عدالت نے اس وقت کہا تھا کہ ان پانچوں ملزمان کا معاملہ عمر خالد اور شرجیل امام سے مختلف ہے اور یہ ثابت نہیں ہوا کہ منصفانہ ٹرائل کے لیے ان کی مسلسل حراست ضروری ہے۔ دوسری جانب خالد اور امام کے معاملے میں عدالت نے کہا تھا کہ ان کے خلاف موجود مواد UAPA کی دفعہ 43D(5) کے تحت ضمانت پر عائد قانونی پابندی کے دائرے میں آتا ہے۔ اس کے باوجود سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت سے قبل طویل حراست کے حوالے سے آئینی تشویش کا ذکر کرتے ہوئے دونوں کو مستقبل میں دوبارہ ضمانت کی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی تھی۔
 
یہ معاملہ UAPA کے تحت طویل عرصے تک زیرِ حراست رہنے والے ملزمان کی ضمانت سے متعلق وسیع تر قانونی بحث کے دوران سامنے آیا ہے۔ حالیہ برسوں میں عدالتوں نے بعض مقدمات میں اس بنیاد پر ضمانت دی ہے کہ ٹرائل مکمل ہونے میں طویل وقت لگنے کا امکان ہے اور مسلسل حراست آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی اور ذاتی آزادی کے حق سے متعلق سوالات پیدا کر سکتی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ سمیت مختلف عدالتوں نے بعض UAPA مقدمات میں طویل حراست اور ٹرائل کی رفتار کو ضمانت کے معاملات میں مدنظر رکھا ہے۔ تاہم، UAPA کی دفعہ 43D(5) ضمانت کے لیے سخت معیار مقرر کرتی ہے۔ اس کے تحت عدالت کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ ملزم کے خلاف لگائے گئے الزامات بظاہر درست ہونے کی معقول بنیاد موجود ہے یا نہیں۔ سپریم کورٹ کے K.A. Najeeb فیصلے اور بعد کے عدالتی فیصلوں میں بھی UAPA کے تحت قانونی پابندیوں اور آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ذاتی آزادی کے درمیان توازن کے سوال پر غور کیا گیا ہے۔