Wednesday, September 30, 2026 | 16 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • گیانیش کمار کے خلاف انڈیا اتحاد کا بڑا اجلاس

گیانیش کمار کے خلاف انڈیا اتحاد کا بڑا اجلاس

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 30 Sept 2026

گیانیش کمار کے خلاف انڈیا اتحاد کا بڑا اجلاس
اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ آج دارالحکومت دہلی میں ایک اہم اجلاس کرنے جا رہا ہے۔ اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، الیکشن کمیشن کے کام کاج اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی یعنی ایس آئی آر (SIR) کے معاملے پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کے مطالبے اور آئندہ حکمت عملی پر بھی غور کیا جائے گا۔
 
اجلاس میں اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور مرکزی حکومت کے خلاف اپنی آئندہ حکمت عملی پر غور کریں گی۔ امکان ہے کہ SIR کے معاملے پر احتجاج کو مزید وسیع کرنے اور مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے پر بھی بات ہوگی۔ موجودہ رپورٹس کے مطابق INDIA اتحاد کی قیادت نے اس معاملے پر مشترکہ پروگرام تیار کرنے کے لیے اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
 
الیکشن کمیشن اور حکومتی ذرائع نے اپوزیشن کی جانب سے کی جانے والی تنقید کو مسترد کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ SIR سمیت اس کے فیصلے مکمل کمیشن کی منظوری سے لیے گئے ہیں۔ کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ مختلف ارکان کے درمیان اختلافِ رائے معمول کی بات ہے، لیکن فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے ہیں۔
 

اجلاس میں 20 سے زائد سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔

 
کانگریس کی جانب سے سونیا گاندھی، راہل گاندھی اورملیکارجن کھڑگے کی شرکت متوقع ہے۔ سماج وادی پارٹی نے ہریندر ملک اور مولانا محب اللہ ندوی کو اجلاس کے لیے نامزد کیا ہے۔ اس سے پہلے اکھلیش یادو کی عدم شرکت کے حوالے سے قیاس آرائیاں سامنے آئی تھیں، کانگریس اور سماج وادی پارٹی نے وضاحت کی کہ اکھلیش یادو اتر پردیش کے راجیہ سبھا انتخابات میں مصروف ہیں، اسی لیے ان کی جگہ نمائندے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
 
دیگر متوقع رہنماؤں میں ٹی ایم سی کی ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی، آر جے ڈی کے تیجسوی یادو، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی، جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین، شیو سینا یو بی ٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے، این سی پی ایس پی کی سپریا سولے، سی پی ایم کے جنرل سیکریٹری ایم اے بے بی، سی پی آئی کے ڈی راجہ، سی پی آئی ایم ایل کے دیپانکر بھٹاچاریہ اور آزاد رکن پارلیمنٹ کپل سبل شامل ہیں۔
 
اجلاس میں ملک گیر احتجاج کے حوالے سے بھی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ اپوزیشن کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے اور عوامی ریلیاں منعقد کرنے کے ساتھ پارلیمنٹ میں مواخذے کی تحریک لانے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔
 
یہ اجلاس کانگریس ورکنگ کمیٹی (CWC) کے اس اجلاس کے ایک دن بعد ہو رہا ہے جس میں پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سخت تنقید کی اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
 
CWC اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے مودی حکومت پر گزشتہ 12 سال کے دوران ملک کی جمہوری بنیادوں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے منظم اور سوچی سمجھی سازش کے ذریعے ان جمہوری بنیادوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
 
کھڑگے نے الزام لگایا کہ ووٹر فہرستوں سے نام ہٹائے جا رہے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر مودی حکومت کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس بنیادی اصول کے خلاف ہے جس کے تحت ہر اہل شہری کا ووٹ محفوظ رہنا چاہیے اور ہر ووٹ کی غیر جانب دارانہ گنتی ہونی چاہیے۔
 
انہوں نے کہا کہ 2027 میں پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات سے پہلے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ کسی بھی اہل ووٹر کے حق کو نقصان نہ پہنچے۔ ان کے مطابق کانگریس کو اس بات کے لیے کام کرنا ہوگا کہ ہر شخص کا ووٹ محفوظ رہے اور انتخابات منصفانہ طریقے سے ہوں، تاکہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
 
کھڑگے نے CWC اجلاس میں پانچ اہم مطالبات بھی پیش کیے۔ ان میں انتخابی فہرستوں میں کی گئی تبدیلیوں سے متعلق تمام اعداد و شمار عوام کے سامنے لانا، حذف کیے گئے ووٹرز کو اپیل کا موقع دینا اور تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی فہرستیں بروقت اور آسان فارمیٹ میں فراہم کرنا شامل ہے۔
 
انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جہاں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں وہاں آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور یہ تحقیقات مقررہ مدت میں مکمل ہوں۔ اس کے علاوہ انہوں نے انتخابی عمل میں مزید شفافیت کا مطالبہ کیا تاکہ لوگوں کو یہ محسوس نہ ہو کہ اہم معلومات ان سے چھپائی جا رہی ہیں۔
 
دوسری جانب، الیکشن کمیشن اور حکومتی ذرائع نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ہونے والی تنقید کو مسترد کیا ہے۔ ذرائع نے اپوزیشن کے الزامات کو ’ہدف بنا کر کی گئی‘ اور ’بے بنیاد‘ تنقید قرار دیا ہے۔
 
الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ SIR انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا ایک قانونی عمل ہے اور اس عمل سے متعلق فیصلے مکمل کمیشن کی منظوری سے کیے گئے ہیں۔ کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ SIR کا مقصد انتخابی فہرستوں کو درست کرنا اور ایسے ناموں کی نشاندہی کرنا ہے جو فوت ہو چکے افراد، دوہری انٹری، جعلی اندراج یا دوسری جگہ منتقل ہو جانے والے ووٹرز سے متعلق ہیں۔
 
کمیشن کے مطابق اس عمل کے ساتھ ساتھ یہ بھی یقینی بنانا مقصد ہے کہ تمام اہل ووٹرز کے نام انتخابی فہرست میں برقرار رہیں۔ CEC گیانیش کمار بھی SIR کے بارے میں کہہ چکے ہیں کہ انتخابی فہرستوں کو درست رکھنے کے لیے فوت شدہ، منتقل ہو جانے والے، غیر حاضر اور دوہرے اندراج والے ناموں کی صفائی ضروری ہے۔
 
ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے تقریباً 13 کروڑ 30 لاکھ ووٹرز کے نام بحال کرنے کا مطالبہ ان ناموں کو دوبارہ شامل کرنے کے مترادف ہوگا جنہیں تصدیقی عمل کے دوران ہٹایا گیا۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں میں نام حذف کرنے کے عمل میں شفافیت ہونی چاہیے اور جن ووٹرز کے نام ہٹائے گئے ہیں انہیں اپیل کا مناسب موقع ملنا چاہیے۔
 
SIR، انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار کا معاملہ حکومت، الیکشن کمیشن اور اپوزیشن کے درمیان ایک بڑا سیاسی تنازع بن گیا ہے۔