چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ای وی ایم کے معاملے پر جاری سیاسی بحث کے درمیان دہلی میں انڈیا اتحاد کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ اس سے ایک روز قبل کانگریس ورکنگ کمیٹی (CWC) کا اجلاس ہوا تھا، جس میں بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار بھی زیرِ بحث رہے۔ سی ڈبلیو سی اجلاس میں نتیش کمار کے حوالے سے سامنے آنے والے بیانات پر اب جنتا دل یونائیٹڈ (JDU) نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جے ڈی یو کے سینئر رہنما اور مرکزی وزیر مملکت رام ناتھ ٹھاکر نے کانگریس کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ماضی میں نتیش کمار کو اپوزیشن اتحاد کا کنوینر بنانے کی تجویز دی گئی تھی، لیکن انہیں یہ ذمہ داری نہیں دی گئی۔
رام ناتھ ٹھاکر نے کہا کہ جب کانگریس کی قیادت میں ’مہا گٹھ بندھن‘ قائم تھا، اس وقت نتیش کمار کو اتحاد کا کنوینر بنانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ ان کے مطابق، ایک سازش کے باعث نتیش کمار کو یہ ذمہ داری نہیں دی گئی، جس کے بعد انہوں نے اپنا سیاسی فیصلہ کرتے ہوئے این ڈی اے اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ جے ڈی یو رہنما نے کہا کہ اب نتیش کمار کے بارے میں بات کرنے کا کیا فائدہ ہے۔ انہوں نے کانگریس کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے موجودہ فیصلوں پر توجہ دے اور اپنی پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران سابق کانگریس صدر سونیا گاندھی کے نتیش کمار سے متعلق تبصرے کا بھی ذکر سامنے آیا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، سونیا گاندھی نے کہا کہ نتیش کمار پہلے ہی اتحاد سے الگ ہونے کا راستہ تلاش کر رہے تھے۔ ان کے مطابق، یہ بہتر رہا کہ نتیش کمار اسی وقت اتحاد سے الگ ہو گئے، کیونکہ اگر وہ بعد میں الگ ہوتے تو اس سے اتحاد کو زیادہ نقصان پہنچ سکتا تھا۔ یہ بات اس وقت کہی گئی جب کانگریس رہنما دگ وجے سنگھ نے مبینہ طور پر یہ سوال اٹھایا کہ نتیش کمار کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل اتحاد سے الگ ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تھی۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں نتیش کمار سے متعلق گفتگو سامنے آنے کے بعد جے ڈی یو نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ رام ناتھ ٹھاکر کے بیان سے ظاہر ہے کہ پارٹی اس معاملے پر کانگریس کے تبصروں کو قبول نہیں کر رہی۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ ’مہا گٹھ بندھن‘ میں شامل دیگر جماعتیں جے ڈی یو کے اس ردعمل پر کیا موقف اختیار کرتی ہیں۔






