مرکزی حکومت نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 18 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ بدھ کے روز حکومتی ذرائع نے ایسی اطلاعات کو ”جعلی اور بے بنیاد“ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت نے نابالغوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ یہ وضاحت سپریم کورٹ کی جانب سے پیر کے روز دی گئی ہدایات کے بعد سامنے آئی ہے۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے کہا تھا کہ نابالغوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق موجودہ ضوابط کو کسی مناسب قانونی یا آئینی فریم ورک کے تحت لانے کے امکانات پر غور کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے پیر کو کہا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نابالغوں سے متعلق ہندوستانی قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔ یہ معاملہ جسٹ رائٹس فار چلڈرن الائنس (JRCA) کی جانب سے دائر کی گئی عرضی کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔ جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ میں جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا بھی شامل تھے۔ عرضی میں بچوں کو سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے وابستہ مختلف خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران عدالت کے سامنے ایک اہم قانونی سوال بھی اٹھایا گیا۔ عدالت نے اس پہلو پر غور کیا کہ جب 18 سال سے کم عمر افراد بعض قانونی معاملات میں آزادانہ طور پر پابند معاہدے کرنے کے اہل نہیں ہوتے، تو وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی شرائط وضوابط کو قبول کرکے اپنے نام سے اکاؤنٹس کیسے بنا اور چلا سکتے ہیں۔
عدالت نے اس معاملے میں موجودہ قوانین اور ضوابط کو مؤثر بنانے کے لیے قانونی فریم ورک پر غور کرنے کی بات کہی ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مرکزی حکومت نے 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومتی ذرائع کی تازہ وضاحت کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان اطلاعات کی تردید ہو گئی ہے جن میں نابالغوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی کی بات کہی جا رہی تھی۔







