کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں آشوتوش رانکا اور سوراو داس کو ایس ای ایم (SEM) عدالت نے پانچ روزہ عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کو ضمانتی مچلکوں کی شرائط کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالتی حکم کے بعد انہیں تہاڑ جیل منتقل کر دیا گیا، جہاں دونوں کو الگ الگ وارڈز میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، سوراو داس کو تہاڑ جیل کے نمبر 2 وارڈ میں رکھا گیا ہے، جبکہ آشوتوش رانکا کو جیل نمبر 4 میں منتقل کیا گیا ہے۔ دونوں کو الگ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے باعث ان کے درمیان ملاقات اور رابطے کے امکانات محدود رہیں گے۔
سی جے پی رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے ان کی حمایت کی ہے۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال سمیت متعدد سیاسی شخصیات نے سوشل میڈیا پر ان کے حق میں پوسٹس شیئر کیں اور حکومت کی کارروائی پر سوال اٹھائے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، منگل کی صبح آشوتوش رانکا، سوراو داس اور اجنکیا شنڈے احتجاج کے لیے جنتر منتر پہنچے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ سی جے پی کے رہنما اجازت کے بغیر وہاں پہنچے اور گیٹ پر چڑھ گئے، جس کے بعد دہلی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، تقریباً 17 گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد انہیں رات تقریباً 3 بجے احتیاطی حراست میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں انہیں جعفر پور کلاں پولیس اسٹیشن سے سنسد مارگ پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد آشوتوش رانکا اور سوراو داس کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں پانچ دن کے عدالتی ریمانڈ پر بھیجنے کا حکم دیا گیا۔ سی جے پی کی قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ گرفتاری کے بعد سے سوشل میڈیا پر معاملے سے متعلق تازہ معلومات شیئر کر رہی تھیں۔ انہوں نے ایسی تصاویر بھی پوسٹ کیں جن میں آشوتوش رانکا، سوراو داس اور اجنکیا شنڈے کو پولیس اسٹیشن میں بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس معاملے پر سیاسی ردعمل جاری ہے، جبکہ دونوں رہنماؤں کی عدالتی حراست اور آئندہ قانونی کارروائی پر توجہ مرکوز ہے۔







