پرینکا گاندھی کی پارٹی عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کے بعد سیاسی سرگرمیاں تیز
کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر سوالات
اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے کانگریس نے اپنی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے حال ہی میں اتر پردیش کے پارٹی عہدیداروں کے ساتھ ایک اجلاس کیا، جس میں ریاست کے تقریباً 200 اسمبلی حلقوں میں تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے حکمت عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس پیش رفت کے بعد کانگریس اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے درمیان انتخابی اتحاد اور نشستوں کی تقسیم کو لے کر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔
اس سے قبل یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ کانگریس تقریباً 150 نشستوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، لیکن اب سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق پارٹی نے اپنی تیاریوں کا دائرہ بڑھا کر تقریباً 200 اسمبلی حلقوں تک کر دیا ہے۔ اس صورت حال نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، جو ریاست میں اپنی پارٹی کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کانگریس کو اتنی بڑی تعداد میں نشستیں دینے پر رضامند ہوں گے؟
میڈیا رپورٹ کے مطابق، کانگریس اتر پردیش کی 403 رکنی اسمبلی میں تقریباً 200 نشستوں پر اپنی دعوے داری مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ اگر یہ مطالبہ باضابطہ طور پر نشستوں کی تقسیم کے مذاکرات میں سامنے آتا ہے تو دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان بات چیت اہم ہو سکتی ہے۔ تقریباً 200 نشستوں پر توجہ مرکوز کرنے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کانگریس ریاست میں اپنی سیاسی حیثیت اور تنظیمی طاقت کو وسعت دینا چاہتی ہے۔ تاہم، پارٹی کی انتخابی تیاریوں اور اتحادی جماعت سے باضابطہ طور پر اتنی نشستیں مانگنے کے درمیان فرق کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
سیاسی حلقوں میں کچھ عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ اکھلیش یادو اپنی پارٹی کو تقریباً 350 نشستوں پر انتخاب لڑانے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ اتحادی جماعتوں کے لیے محدود نشستیں چھوڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں پہلے یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ کانگریس کو زیادہ سے زیادہ 53 نشستیں مل سکتی ہیں۔ لیکن کانگریس کی جانب سے تقریباً 200 حلقوں میں تنظیمی سرگرمیوں پر توجہ دینے کی اطلاعات نے نشستوں کی تقسیم سے متعلق قیاس آرائیوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ دونوں جماعتیں کس فارمولے پر اتفاق کریں گی اور انتخابی اتحاد کی صورت میں ہر پارٹی کتنی نشستوں پر امیدوار اتارے گی۔ اکھلیش یادو پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ نشستوں کی تعداد سے زیادہ اہمیت انتخابات میں کامیابی کی ہے۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے تمام 403 اسمبلی حلقوں میں انتخابی تیاریوں کا ذکر بھی کیا جاتا رہا ہے۔






