Friday, October 23, 2026 | 11 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • بحیرۂ احمر میں ہندوستانی شہریوں سے بھری کشتی پر حملے کا حوثیوں کا دعویٰ

بحیرۂ احمر میں ہندوستانی شہریوں سے بھری کشتی پر حملے کا حوثیوں کا دعویٰ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 23 Oct 2026

بحیرۂ احمر میں ہندوستانی شہریوں سے بھری کشتی پر حملے کا حوثیوں کا دعویٰ
یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے بحیرۂ احمر میں ایک کشتی کو نشانہ بنایا، جس پر 14 ہندوستانی شہری سوار تھے۔ حوثی گروپ کے مطابق، اس کے اہلکار کشتی پر موجود افراد کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم، گروپ نے مبینہ حملے کے حوالے سے کوئی تفصیلی معلومات یا ثبوت پیش نہیں کیے ہیں۔ دوسری جانب، یمن میں ہندوستانی سفارت خانے نے کہا ہے کہ اسے اس واقعے سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور حکام مزید تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 
 
سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ وہ واقعے کی معلومات جمع کر رہا ہے اور ہندوستانی شہریوں کی حفاظت اور خیریت یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔ تاحال دستیاب معلومات میں مبینہ حملے کی جگہ، وقت، کشتی کی شناخت اور اس پر سوار ہندوستانی شہریوں کی موجودہ صورت حال کے بارے میں تفصیلات واضح نہیں ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے بھی اس مخصوص کشتی پر حملے کے حوثیوں کے دعوے کی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
 
اس دوران سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے دارالحکومت ریاض اور مقدس شہر مدینہ کے علاقوں میں ڈرونز کو روک کر تباہ کیا ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان نے، جو یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا ہے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک بیان میں کہا کہ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں چار ڈرونز کو روکا گیا اور تباہ کر دیا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق، یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم، فراہم کردہ معلومات میں ڈرونز کے ممکنہ اہداف اور ان حملوں سے ہونے والے نقصان کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔
 
بحیرۂ احمر میں کشتی پر حملے سے متعلق دعوے کے بعد ہندوستانی سفارت خانے کی جانب سے معلومات جمع کرنے کا عمل اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ سفارت خانہ ہندوستانی شہریوں کی حفاظت اور ان کی موجودہ صورت حال کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ فی الحال کشتی پر سوار 14 ہندوستانی شہریوں کی خیریت اور مبینہ حملے کی مکمل تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ حتمی صورت حال واضح ہونے کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے مزید معلومات کا انتظار ہے۔